مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اپنے دور حکومت میں برابری اور انسانی حقوق کمیشن کے اختیارات بڑھائیں گے : جیریمی کوربن
واٹفورڈ: برطانیہ میں متوسط طبقے کی ہردلعزیز پارٹی لیبرکے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ لیبر ’’برابری کی جماعت‘‘ ہے اورمخالف جماعت کنزرویٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلی برادریوں کو ’’پیچھے رکھا ہوا‘‘ ہے۔ لیبر لیڈر نے اسلام مخالف اور اسلاموفوبیا سے جڑے نفرت کے جرائم میں حالیہ اضافے کے حوالے سے کہا کہ دیکھ لیں ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم کس حد تک جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دور حکومت میں برابری اور انسانی حقوق کمیشن کے اختیارات بڑھائیں گے اور زیادہ منصفانہ معاشرے کے لئے کام کریں گے۔ جیریمی کوربن واٹفورڈ میں نسل اور عقیدے سے متعلق منشور کے اجراء کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تعمیر سماجی انصاف، بین الاقوامی سوچ اور انسانی حقوق کی اقدار پر ہوئی ہے۔ ہماری اقدار کی جڑیں اس بنیادی سچائی میں ہیں کہ آپ کا پس منظر کچھ بھی ہو، آپ کہیں سے بھی ہوں، آپ کو اپنی استعداد کو بروئے کار لانے کے ذرائع اور مواقع میسر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ نسل یا عقیدے کی بناء پر غیرمنصفانہ سلوک کا سلسلہ جاری رہے گا۔ نفرت کے جرائم جس میں سامیت مخالف اور اسلاموفوبیا سے جڑے حملے بھی شامل ہیں، میں حالیہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی ہمیں کس حد تک جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی، کنزرویٹو حکومت کے پہنچائے ہوئے نقصان کا ازالہ کرے گی جس نے ہماری کمیونٹیز میں تقسیم کے بیج بو دئیے ہیں۔ جیریمی کوربن نے مزید زور دیا کہ صرف لیبر پر ہی اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ وہ سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلی برادریوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی جنہیں کنزرویٹو نے پیچھے رکھا ہوا ہے۔ ہم ضمانت دیں گے کہ برابری کو ہمارے حکومتی پروگرام میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ لیبر لیڈر نے کہا کہ لیبر پارٹی نسلی برابری کے لئے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد کرے گی،ایک ایسی حکمت عملی جو ان محرومیوں کو موثر انداز میں چیلنج کرے گی جن کا شکار سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلی برادریاں چلی آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک زیادہ منصفانہ معاشرے کے لئے کام کریں گے جس میں ہر فرد اپنی نسل، عقیدے یا نسلی وابستگی سے قطع نظر ایک ایسے برطانیہ کی تعمیر کے لئے زندگی میں آگے بڑھ سکے گا جو محض چند لوگوں کے لئے نہیں بلکہ زیادہ تر لوگوں کے لئے کام کرے گا۔ لیبر پر بعض حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ صیہونیت مخالف سوچ سے نمٹنے کافی کچھ نہیں کر رہی۔ سو سے زائد لیبر ایم پیز نے پارٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ کین لونگ سٹون کو اڈولف ہٹلر اور صیہونیت کے بارے میں ان کے تاثرات کی پاداش میں پارٹی سے نکال دے۔