مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ یاترا میں پہلی بلی تھیلے سے باہر،ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کردیا گیا ..!!
واشنگٹن ... امریکی سیاست میں ایوان نمائندگان کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اس ایوان میں خارجہ امور کمیٹی کے سیکریٹری ایڈ رائس نے صدر اوبامہ سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے ملاقات سے پہلے خود ملاقات کی جس میں انہوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی مخبری کے سلسلے میں قید کاٹنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کی درخواست کی ۔ برن ہاؤس آفس کی عمارت میں ہونے والی ملاقات میں ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے میاں نواز شریف سے کھل کر تمام معاملات پر بات چیت کی جس میں خصوصی طور پر وزیر اعظم پر زور دیا گیا کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کر دیں۔ پاکستانی وزیراعظم سے کہا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان دہشت گردی، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور خطے میں پر تشدد شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا موثر ساتھی بنے۔ بعد ازاں اسکے جواب میں دورے میں ساتھ گئے پاکستانی سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ادارے کی مدد کرنے والا ڈاکٹر شکیل آفریدی "ہیرو" نہیں بلکہ اس نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت میں ہے اور وہ جو فیصلہ کرے گی پاکستانی حکومت اس کا احترام کرے گی۔ ملاقات میں پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی، قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور دوسرے اعلیٰ سطحی اہلکار بھی شامل تھے۔ ایبٹ آباد اور گرد و نواح میں پولیو میں کے انچارج ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 23 مئی 2011 کو خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات اور اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں 33 سال کی سزا سنائی تھی۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان نے امریکی نائب صدر جو بائنڈن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، دونوں رہنمائوں نے ناشتہ اکٹھے کیا۔ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، خطے کی سکیورٹی کی صورتِ حال اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وزیرِاعظم اور امریکی نائب صدر نے تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔