مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گونگی بہری لڑکی کو برطانیہ سمگل کرکے غلام بنائے رکھنے والے میاں بیوی اور بیٹی کو سزا !!
مانچسٹر ...معمر جوڑے کو پاکستان سے گونگی بہری لڑکی برطانیہ سمگل کرکے اس سے غلاموں والا سلوک کرنے پر سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ سزا اس لڑکی کو دس سال تک تہہ خانے میں مقید رکھنے اور جنسی غلام بنائے رکھنے کے جرم میں سنائی گئی ہے۔ برطانوی عدالت نے 84 سالہ الیاس اشعر کو 13 برس قیدکی سزا سنائی ہے۔ الیاس اشعر کی بیوی طلعت اشعر کو پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اور عمر رسیدہ جوڑے کی 46 سالہ بیٹی فائزہ کو 300 گھنٹے کی’ کمیونٹی سروس‘ کی سزا سنائی گئی ہے۔ واضع رہے کہ ان پر تمام الزامات پہلے ہی ثابت ہو چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق میاں بیوی اس گونگی بہری لڑکی کو پاکستان سے لائے تھے اورسالفورڈ میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھتے تھے۔ لڑکی کا نام قانونی وجوہات کی وجہ سے شائع نہیں کیا جا سکتا۔ الیاس عاشر کے گھر میں غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کے بعد ٹریڈنگ سٹینڈرڈز کے حکام نے چھاپہ مارا جس دوران اس لڑکی کو بازیاب کرایا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی سے گھر کی صفائی اور کھانا پکوایا جاتا تھا اور اسے خاندان کے دوسرے گھروں میں بھی کام کرنے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔ تفصیلات سامنے لانے کیلئے لڑکی کو باقاعدہ اشاروں کی زبان سکھائی گئی جس بارے میں ظالم میاں بیوی نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ پولیس کے مطابق اس لڑکی کے نام پر ہزاروں پاؤنڈ کی مراعات حاصل کی گئیں جس میں ان کی اپنی سگی بیٹی فائزہ بھی شامل ہے اور اس پر بھی جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس پاسپورٹ پر یہ لڑکی سنہ دو ہزار میں برطانیہ آئی تھی اس کے مطابق اُس وقت اُس کی عمر بیس سال تھی۔ اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امیگریشن کا عملہ ان کی عمر کے فرق کو کیسے نہیں دیکھ سکا۔