مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر:وادی بھرمیں مکمل ہڑتال،فرضی جھڑپ میں مزید2نوجوان شہید
سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں ممتاز آزادی پسند رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی شہادتوں کی برسی پر مکمل ہڑتال رہی جبکہ غاصب بھارتی فورسزنے فرضی جھڑپ میں مزید2نوجوان شہیدکردئیے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت قیادت کی اپیل پروادی بھرمیں مکمل ہڑتال کی گئی اورنظام زندگی مفلوج رہا،کٹھ پتلی انتظامیہ نے سری نگرمیں مزارشہدا کی طرف ریلی ناکام بنانے کیلئے سخت ترین پابندیاں عائدکررکھی تھیں،شہرکے تمام داخلی وخارجی راستوں کوخاردارتارلگاکربندکردیاگیاجبکہ شہریوں کے گھرسے نکلنے پربھی پابندی تھی،اسکے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں کومسلسل گھروں میں نظر بند رکھاگیاجبکہ بھارتی پولیس نے امت اسلامی کے سربراہ قاضی احمد یاسر اور حریت رہنما مختار احمد وازہ کو ضلع اسلام آباد میں گرفتار کر لیا۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے تحریک حریت کے رہنماؤں عبدالغنی بٹ ، عبدالرشید بٹ، معشوق احمد بٹ، امتیاز احمد میر اور معراج الدین نائیکو کیخلاف دوسری مرتبہ کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے انہیں جموں کی کوٹ بلوال جیل میں منتقل کر دیا۔یادرہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21مئی 1990ئکو سرینگر میں انکی رہائش گاہ میں گھس کر گولی مار دی گئی تھی جبکہ بھارتی فوجیوں نے اسی روزانکے جنازہ پربھی اندھا دھند فائرنگ کی جس سے 70سوگوارشہیدہوئے ،نیز خواجہ عبدالغنی لون کو 21مئی 2002 ئکواس وقت شہید کر دیاگیاتھاجب وہ مزار شہداء سرینگر میں عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد واپس آرہے تھے ۔علاوہ ازیں ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والا فاروق احمدڈار،جسے گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں نے جیپ کے آگے باندھ کرگشت کیاتھا،تشددکے باعث ذہنی توازن کھوبیٹھا،سرینگرہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ فوجیوں کی مارپیٹ کے باعث فاروق احمدتقریباًآدھاگھنٹہ بیہوش رہاتھا۔مزیدبرآں بڈگام میں بھارتی پولیس کاایک کانسٹیبل4سرکاری رائفلزاورگولیاں لیکرکیمپ سے فرارہوگیا،بھارتی فورسزکی بھاری نفری مفروراہلکارکی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن میں مصروف ہے ۔ادھر ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹرمیں بھارتی فورسزنے فرضی جھڑپ میں مزید2نوجوان شہیدکردئیے جبکہ ایک اوربھارتی فوجی ماراگیا،بھارتی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیاکہ جھڑپ میں4جنگجواور3فوجی اہلکارہلاک ہوئے ۔خیال رہے کہ گزشتہ روز2کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور2بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات آئی تھیں۔دوسری جانب بھارتی ریاست اترپردیش کی عدالت نے ناکردہ گناہ کی سزابھگتنے والے کشمیری گلزاراحمدوانی کو16سال بعدبے گناہ قراردیتے ہوئے رہائی کاحکم دیدیا،گلزارکو31جولائی 2000 کوسابرمتی ایکسپریس میں دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا،اس وقت انکی عمر28 برس تھی اوروہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے ۔ادھرآزادجموں وکشمیرکے دارالحکومت مظفرآبادمیں ممبرقانون سازاسمبلی نسیمہ وانی کی زیرقیادت سینکڑوں مظاہرین نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیا،اس موقع پرفضابھارت مخالف نعروں سے گونجتی رہی۔