مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لندن میں شیڈول ورلڈ اسلامک اکنامک فورم کی میزبانی برطانیہ کے لئے اعزاز ہے:بیرونس وارثی
لندن ... برطانیہ کی سینئر وزیربرائے وزارت خارجہ بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا ہے کی ورلڈ انٹرنیشنل اسلامک فورم کے زیر اہتمام نویں سالانہ کانفرنس کا انعقاد پہلی دفعہ کسی غیر اسلامی ملک میں ہورہا ہے اور اس سلسلے میں لندن اس میزبانی پر بہت خوش ہے۔ دولت مشترکہ آفس میں ایشیائی میڈیا کی پریس بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں سولہ ممالک کے سربراہ عالمی معیشت اور اقتصادیات کے ضمن میں ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے اور باہمی تعاون کو موثر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیں گے۔ اس موقع پر بیرونس وارثی نے اس ماہ کے آغاز میں اپنے دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کا ایک سچا اور ہمدرد دوست ہے اس دورے میں برطانوی وزرا کے سابقہ دوروں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور صحت و تعلیم کے شعبہ جات میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں مزیز تیزی لانے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کا امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بیرونس وارثی کا کہنا تھا انہوں نے اس دورے میں خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے درخواست کی تھی کہ وہ اکنامک فورم کیں ضرور شرکت کریں اور اپنے کامیاب نظریات بارے شرکا کو آگاہی دیں۔ واضع رہے کہ یہ تینوں شخصیات اس تقریب میں شرکت بھی کر رہی ہیں۔ بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا برطانیہ اورپاکستان کئی مضبوط رشتوں سے بندھے ہیں جو ہمارے عوام کوایک لڑی میں پروتے ہیں۔ انکا کہنا تھا برطانیہ یہ سمجھتا ہے کہ ایک مستحکم، خوشحال اورجمہوری پاکستان جو ملک کےتمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے،ملکی اور علاقائی سلامتی کے لئے ضروری ہے۔ بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو 2015ء تک 3 بلین پاؤنڈ تک بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ تجارت میں اضافے سے پاکستان اوربرطانیہ میں روزگارکے مزید مواقع پیدا ہونگےاورملازمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے ہمارے ملک مزید خوشحال اور محفوظ ہونگے۔ بیرونس سعیدہ وارثی کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ اس سال دسمبرمیں پاکستان وقف تجارتی کانفرنس کی میزبانی کررہا ہے تاکہ مزید کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہو اوروہ پاکستان میں پہلے سے کام کرنے والی کامیاب کمپنیوں کی تقلید کریں۔ اس کانفرنس میں توانائی کے شعبے کی مستحکم شرکت ہوگی۔ پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں بارے ان کا موقف تھا کہ یہ دو آزاد ممالک امریکہ اور پاکستان کا ذاتی معاملہ ہے جس کا حل باہمی گفت و شنید میں ہی ہے دوسری صورت میں عالمی قوانین بھی موجود ہیں جن سے مدد لی جا سکتی ہے۔