مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کیا ڈرون حملوں سےمتعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ پاکستان کےلئےسود مندہوگی؟
واشنگٹن ... وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ میں ہی انسانیت کیلئے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے تحقیق کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرون پروگرام سےمتعلق رازداری نے امریکی انتظامیہ کو عدالتی کارروائیوں اور بین الاقوامی قوانین سے آزاد رہتے ہوئے قتل کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر امریکہ کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔ منگل کو اپنی رپورٹ میں تنظیم کا کہنا ہے کہ حاصل ہونے والے نئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے اور اس میں سے بعض جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آسکتی ہیں۔ ’وِل آئی بی نیکسٹ؟ یو ایس ڈرون اسٹرائیکس ان پاکستان‘‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ انسانی حقوق کے تناظر میں امریکی ڈرون پروگرام پر اب تک کا جامع مطالعہ پیش کرتی ہے۔رپورٹ میں جنوری 2012ء سے اگست 2013ء کے درمیان پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے 45 ڈرون حملوں کا احاطہ کیا گیا۔ اس میں نو حملوں کی تفصیلی تحقیقات کے بعد ان میں ہونے والی ہلاکتوں کی دستاویز بھی شامل کی گئی جس نے جنگی جرائم یا ماورائے عدالت قتل کا موجب بننے والے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔رپورٹ میں بعض شہری ہلاکتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے ڈرون طیاروں کے استعمال كو نہ صرف پاكستان كی سرحدوں كی مسلسل خلاف ورزی، بلكہ دہشت گردی کے خاتمے میں ایک ركاوٹ قرار دیا ہے۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک كے تعلقات كی بہتری میں ایک ركاوٹ ہے۔ اِس لیے، میں ایک بار پھر زور دوں گا كہ ڈرون حملوں كو ختم كیا جائے۔ منگل کے روز امریکی ’انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ میں امریکی پالیسی سازوں اور میڈیا سے اپنے خطاب میں، اُنھوں نے كہا كہ ،پاكستان كی كامیابی دنیا كی كامیابی ہے اور دنیا كی كامیابی امریكہ كی كامیابی ہے۔ نواز شریف نے كہا كہ وہ یہاں پاكستان كے منتخب لیڈر كے طور پر آئے ہیں۔ آپ كے لیے جمہوری طور پر اقتدار كی پُرامن منتقلی شاید عام سی بات ہو، لیكن پاكستان كے لیے یہ ایک نیا دور ہے۔نواز شریف نے كہا كہ ان كے گذشتہ دورِ حكومت میں جو معاشی پالیسیاں اپنائی گئی تھیں اُنھیں دوبارہ اپنایا جائے گا۔ اُن کے بقول، ’ہم اپنے ترقی كے اس سفر كو جاری ركھنا چاہتے ہیں، جسے فوج نے ان كی حكومت كا تختہ الٹ كر روک دیا تھا‘ نواز شریف نے بقول، ’كشمیر یقیناً ایک ایسا مسئلہ ہے جس كو حل كرنا مشكل ہے۔ لیكن بیٹھ كر بات كرنے سے ہم اس كے حل تک پہنچ جائیں گے، كیونكہ یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔