مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کے الزام سےرہائی پانے والے نویدبلوچ کا برطانوی قانون انصاف کو خراج تحسین
لندن ...برطانوی سیکیورٹی ایجنسی کی کاروائی سے دہشت گردی کے شبے میں گرفتار ہونے اور رہائی پانے والے پاکستانی نژاد نوید بلوچ نے لندن میں فرینڈز آف لیاری کے کنوینر حبیب جان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کاکبھی برطانیہ یا پاکستان کے کسی دہشت گرد گروپ یا کسی طرح کے گینگ وارسے کوئی تعلق نہیں رہا۔ نوید بلوچ نے اپنے گھر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے نظام انصاف کاشکریہ اد ا کیا جس نے انھیں بری کیالیکن اس کے ساتھ ہی کہا کہ ان کی گرفتاری کے حوالے سے کی گئی تشہیر اور ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے سبب پاکستان میں ان کے اہل خانہ کی زندگی کوخطرہ لاحق ہوگیا ہے، اور اب وہ ان کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب برطانوی پولیس نے میرے فلیٹ کادروازہ توڑ کر میرے بچوں کے سامنے مجھے گرفتار کیاتو میں حیرت زدہ رہ گیاتھا، میں خوفزدہ اور ذہنی دباؤ کاشکار تھا مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ تفتیش کاروں اس بہیمانہ طریقے سے میرے گھر پر دھاوا کیوں بولا؟ میں مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار تھا مجھے یقین نہیں آرہاتھا کہ مجھ پر ان ناپسندیدہ لوگوں سے تعلق رکھنے کاالزام عاید کیاجائے گا انھوں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ میری ایک ہفتے کی حراست کے دوران میڈیا نے مجھ سے وہ باتیں منسوب کیں جن کامجھے علم تک نہیں، میرے بارے میں میڈیا میں جھوٹ بولاگیا،میں برطانوی نظام انصاف کا شکر گزار ہوں لیکن پاکستان کے مختلف میڈیا میں میری ذاتی زندگی کے بارے میں جو کچھ کہاگیااس کی مذمت کرتاہوں۔