مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جس نے امریکہ سے ٹکر لی، بم دھماکے بھی وہاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی !!
ماسکو ... کیا آپ نے عام طور پر دیکھا کہ امریکہ میں اس طرح بم دھماکے یا خود کش حملے ہوتے ہوں جیسے اس کے مخالف ممالک میں ہوتے ہیں، واضع رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کیوں نہیں ہوتے بلکہ محض ایک نکتے کی طرف توجہ دلانہ ہے۔ کل ہی روسی شہر وولگو گراد میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ روس کی انسداد دہشت گردی کی نیشنل کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کا سبب ایک ایسا آلہ بنا ہے جس کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ اس دہشت گردانہ حملے میں کون ملوث ہو سکتا ہے اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے اس بارے میں کوئی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک خاتون خود کُش حملہ آور کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں تفتیشی کارروائی کر رہے ہیں۔ اسی طرح کل ہی یہ خبر بھی دنیا بھر کے میڈیا کی زینت ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت اقوام متحدہ کی سفارشات پر عملدرآمد میں ناکام رہی ہے اور وہاں جبر و استحصال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لندن میں قائم اس تنظیم کے مطابق سعودی عرب میں سن 2009 سے سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور دوران حراست ان پر تشدد کے واقعات واضح طور پر زیادہ ہو چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک ڈائریکٹر فلپ لُوتھر کے مطابق، ’’سعودی عرب نے ماضی میں اقوام متحدہ سے جو وعدے کیے تھے، وہ سب کے سب محض ’گرم ہوا‘ ثابت ہوئے ہیں۔ انڈین وزیر خارجہ کے بیان اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلی کا جاری کردہ فرمان بھی کشمیر لنک لندن آپ کے سامنے رکھ چکا ہے اب فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کی “ یا الہی یہ ماجرہ کیا ہے۔“