مقبول خبریں
جامع مسجد اولڈہم میں جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالہ سے محفل کا انعقاد ،حامد سعید کاظمی و دیگر کی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نسلی تعصب جیسے کرائم میں ملوث افراد اور اداروں سے کوئی روادری نہ برتی جائے: بیرسٹر امجد ملک
لندن ... آل پاکستان لائرز ایسوسی ایشن برطانیہ نے حال ہی میں برطانوی اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کا سخت نوٹس لیا ہے ، جس میں اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی سکولوں میں بچوں کے ساتھ نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ سے حاصل کردہ میڈیا رپورٹ کے اعدادو شمار کے مُطابق پچھلے پانچ سالوں میں پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کی جانب سے درج 53687 نسلی تعصب کے واقعات میں 8878 طلباء کو کلاس لینے سے محروم رکھا گیا جبکہ اسی دوران 53 طلباء کو نسلی بنیادوں پر سکول سے نکال دیا گیا۔ آل پاکستان لائرز ایسوسی ایشن برطانیہ کے چئرمین بیرسٹر امجد ملک نے اس رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے نسلی تعصب کو نا قابلِ قبول، غیر اخلاقی اور بے ہودہ قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم شیڈو سیکرٹری تعلیم کے نسلی تعصب کو کچلنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں مگریہ تشویشناک صورتِ حال فوری عملی اقدامات کی مُتقاضی ہے۔ سکولوں میں نسلی تعصب انتہائی قابلِ مذمت ہے کیونکہ ہم سکولوں میں بچوں کو تہذیب و ثقافت سیکھنے اور مُستقبل میں بہتر شہری بنانے کے لیئے بھیجتے ہیں جبکہ نسلی تعصب بچوں میں نا مناسب ردِٰعمل کو پروان چڑھا رہا ہے انھوں نے مزید کہا کہ یہ شرمناک واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیتا ہے کہ برطانوی عوام خاص کر اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنایا جائے اور نسلی تعصب سے متعلقہ قوانین کوصحیح معنوں میں نافذ کیا جائے اور ایسے کرائم میں ملوث لوگوں اور اداروں کے ساتھ کسی قسم کی روادری نہ برتی جائے۔ اے پی ایل تمام ایجوکیشنل باڈیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس سے بروقت اور قانون کے مطابق اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے تا کہ سوسائٹی کوگھمبیر نتائج سے بچایا جا سکے۔