مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
خیبر پختونخواہ افغان جنگ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے:اسد قیصر سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی
لندن:برطانیہ کے دورہ پر آئے ہوئے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ علاقائی حالات کے پیش نظر ان کا صوبہ حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان اور فاٹا سے منسلک ہونے کے سبب خیبر پختونخواہ افغان جنگ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن ہم خوفزدہ یا خائف نہیں بلکہ عمران خان کی قیادت میں مردانہ وار حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کوپٹنی کے علاقے میں واقع لاہور سینٹرل ریسٹورنٹ میں تحریک انصاف برطانیہ کے رہنما اور عمران خان کے دوست صاحبزادہ جہانگیر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اسد قیصر نے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں اور حکومتی اقدامات کے نتائج کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اور قوم پر یہ واضح ہوجانا چاہئے کہ 2018ء کے انتخابات اور ان کے نتائج تاریخی ہوں گے۔ تحریک انصاف کو تاریخی کامیابی حاصل ہوگی اسی کی حکومت بنے گی اور پھر پورے ملک میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے شرکاء کی تقریب سے کہا کہ اگر وہ برطانیہ جیسی ترقی اور خوشحالی پاکستان میں چاہتے ہیں تو عمران خان کا ساتھ دیں۔ آج خیبر پختونخواہ میں ہر کام میرٹ کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ سفارش اور رشوت کا نام و نشان نہیں۔ بلکہ بدعنوان عناصر کی بیخ کنی ہو رہی ہے۔ ہم عوام کی بہبود کے لئے اپنے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ عمران خان نے تبدیلی کے نعرے کو منشور میں شامل کردیا ہے۔ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں واضح کردیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں سب سے کم کرپشن اور سب سے اچھی گڈگورننس ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانے کیلئے بجٹ میں تعلیم کی مد میں 28فیصد رقم رکھی ہے۔ ہم دارس، اسکولوں اور کالجوں میں یکساں نصاب دیں گے۔ تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ کا نظام سخت ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ تعلیمی اداروں سے غیر حاضر رہنے والے ٹیچرز پر 19 کروڑ روپے کے جرمانے کئے گئے ہیں۔ صوبے میں لڑکیوں کے لئے 75فیصد اور لڑکوں کے لئے 25فیصد تعلیمی ادارے بنیں گے۔ کیونکہ ہم لڑکیوں کی تعلیم پر فوکس کر رہے ہیں۔ اسکولوں میں ناظرہ اور پھر ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم دی جائے گی۔ 50 ہزار اساتذہ میرٹ پر مقرر کئے گئے ہیں۔ 3 میڈیکل کالجز بنائے ہیں۔ اور اب ہر ڈسٹرکٹ میں یونیورسٹی بنے گی۔ شعبہ صحت میں اصلاح کے لئے بنیادی اقدامات کئے گئے ہیں ہر اسپتال میں ڈاکٹر کی موجودگی لازمی ہوگی جبکہ ادویات مفت ملیں گی۔ اس مقصد کے لئے 5 ہزار ڈاکٹر بھرتی کئے گئے ہیں اور دور دراز علاقوں میں ڈیوٹی دینے پر تین گنا زائد تنخواہیں دی جائیں گی۔ تاکہ وہاں جانے کے لئے ڈاکٹروں کو ترغیب ملے اور ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ اسد قیصر نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی پولیس میں بنیادی فرق ہے پنجاب میں محض وردی بدلی ہے۔ جبکہ ہم پولیس نظام میں اصلاحات لارہے ہیں اب تک کرپشن پر 250پولیس افسران برطرف کئے جاچکے ہیں۔ میزبان اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما صاحبزادہ جہانگیر نے پارٹی کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج سے 21سال قبل پارٹی کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اور یہ طے پایا گیا تھا کہ پاکستان کے فرسودہ نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس پارٹی نے وقت کا رخ تبدیلی کی طرف کردیا ہے۔ اور یہ محض نعرہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ تبدیلی آئے گی نہیں بلکہ تبدیلی آچکی ہے۔ اور وہ دن دور نہیں کہ جب قوم کو اس فرسودہ نظام سے نجات مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی میں شامل ہونے والے افراد پر اعتراضات کئے جاتے ہیں۔ لیکن معترضین کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ پارٹی میں آنے والا ہر شخص پارٹی منشور کا پابند ہے۔ صاحبزادہ جہانگیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز مجموعی طورپر 40بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کرتے ہیں یہ ان کا حق ہے کہ وہ برطانیہ آنے والے پاکستانی وزراء سے جواب طلبی کریں کہ وہ ملک و قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔ تقریب میں برطانیہ بھر سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ جبکہ مقررین میں مانچسٹر سے آئے ہوئے انیل مسرت، اسلم بھٹہ، ملک رومی، امجد خان، شہزادہ حیات، مشتاق لاشاری اور باسط شاہ نے اپنی تقاریر میں یقین ظاہر کیا کہ آئندہ سال انتخابات میں تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ تقریب کا آغاز محمد عرفان کی تلاوت کلام سے ہوا۔ تقاریر کے بعد تحریک انصاف کی 21ویں سالگرہ کے حوالے سے کیک کاٹا گیا۔