مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
معاہدہ کراچی ختم،گلگت بلتستان کے عوام کے حق حکمرانی کو بحال کیا جائے : ڈاکٹر مسفر حسن
برنلے:کراچی معاہدے کو فی الفور ختم کر کے گلگت بلتستان کے عوام کو آزاد کشمیر طرز کا نظام دیکر ریاست کے دونوں حصوں پر مشتمل اکائی بنائی جائے،حکومت پاکستان مظفرآباد حکومت کو ریاست جموں کشمیر عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کر کے تحریک آزادی میں جموں کشمیر کے عوام کے نمائندوں کو دنیا کے ہر فورم پر اپنی آزادی کی بات کرنے کا موقع فراہم کرے،ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ و یورپ کے صدر ڈاکٹر مسفر حسن نے معاہدہ کراچی کے حوالے سے ایک بیان میں کیا،انہوں نے کہا 28اپریل ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب حکومت پاکستان کے کرپٹ بیورو کریٹس اور آزاد کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری غلام عباس اور اس وقت کے صدر آزاد کشمیر سردار ابراہیم خان نے اس معاہدے پر دستخط کیلئے جسے1990تک عوام سے خفیہ رکھا گیا،انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ غلامی کا وہ طوق ہے جس نے نہ صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا بلکہ اس معاہدے کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر کے ایک بڑے خطے گلگت بلتستان کے عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم کر کے خطے کو پاکستان حکومت کی کرپٹ بیورو کریسی کی جنت میں تبدیل کر دیا گیا،انہوں نے حکومت پاکستان کے اس اقدام پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت پاکستان کے اہلکار یہ کہتے ہیں کہ وہ کشمیری قوم کے حق خود ارادیت کی سیاسی و سفارتی مدد کرتے ہیں جبکہ عملی طور پر معاہدہ کراچی اور شملہ معاہدے جیسی دستاویزات سے اس تمام پالیسی کی نفی ہوتی ہے انہوںنے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں کی منافقت اور دوغلے پن کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ آجکل گلگت بلتستان کے حوالے سے بے شمار افواہیں سنائی دے رہی ہیں لیکن حکومت پاکستان کے اہل کاروں کو یہ بات زہن نشین رکھنی چاہئے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام نے یہ علاقہ جات آزاد کروائے تھے اور آج تک پاکستان کے عوام کے ساتھ لازوال رشتوں کی بنا پر زیادتی برداشت کرتے رہے لیکن اب مزید زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ معاہدہ کراچی کو فی الفور ختم کر کے گلگت بلتستان کے عوام کے حق حکمرانی کو بحال کیا جائے گلگت بلتستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے جو انہیں ملنا چاہئے اور ان علاقہ جات کو آزاد کشمیر کے ساتھ ملا کر حکومت تشکیل دی جائے اور اس حکومت کو ریاست جموں کشمیر کے عوام کی با اختیار اور نمائندہ حکومت تسلیم کیا جائے یہ جناب کے ایچ خورشید نے1962میں تجویز کیا تھا لیکن حکومت پاکستان نا لائق اہکاروں نے ان کی بات نہیں مانی جس سے نہ صرف ریاست جموں و کشمیر سے متعلق حکومت پاکستان کی مبنی کشمیر پالیسی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ معاہدہ محمد علی جناح کی کشمیر یہ حکمت عملی کی سرا سر نفی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی کمزور اور ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر وادی کے عوام بے پناہ مظالم برداشت کر رہے ہیں اور لازوال قربانیاں دے رہے ہیں لیکن ان کی اس جدو جہد کو کہیں پزیرائی حاصل نہیں ہو رہی انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے ذمہ دار ہماری باتوں کو سنیں اور ہماری تجاویز پر عمل کریں اگر ایسا نہ کیا گیا تو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے بہترین مفاد میں ہر قسم کا اقدام اٹھانے پر غور کیا جائے گا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر