مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
تحریک آزادی کو کچلنے کی ناکام کوشش، مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندی
سری نگر: غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارت ایک مرتبہ پھر تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے ناکام اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ ماضی میں جہاں مقبوضہ کشمیر میں عوام کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں تو اب نام نہاد حکومت نے سوشل میڈیا پر ہی پابندی عائد کر دی ہے۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کے سامنے دکھانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ جن سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر اور واٹس ایپ سمیت 16 معروف سائٹس شامل ہیں۔ بھارتی حکام کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کو اگلے احکامات تک معطل رکھا جائے گا۔ بھارتی حکام نے ایک حکم نامے میں 1885ء میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ حکومت امن عامہ کے مفاد میں یہ اقدام اُٹھا رہی ہے۔یہ اقدام اُس وقت اٹھایا گیا ہے جب وادی کشمیر میں طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ کشمیر میں کئی ہفتوں سے طلبہ و طالبات بھارت کیخلاف مخالف مظاہرے کر رہے ہیں۔ 9 اپریل سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظاہروں میں 10 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نام جاری کردہ احکامات میں کہا گیا ہے اگلے ایک ماہ تک فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، قیو قیو، وی چاٹ، اوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بیدو، سکائپ، وائبر، لائن، سنیپ چاٹ، پنٹرسٹ، ٹیلی گرام اور ریڈاٹ کے ذریعے آئندہ ایک ماہ تک وادی کشمیر کے بارے میں کوئی بھی پیغام، ویڈیو یا تصویریں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ انٹرنیٹ کمپنیوں کو اس حکم نامے کو فوری طور پر لاگو کرنے کے لئے گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اقدام سیکیورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے، احتجاجیوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے اور کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ وادی کشمیر میں بھارت مخالف جذبات جڑ پکڑ چکے ہیں جہاں موجود بھارتی فوجیوں کی تعداد دنیا بھر میں زیادہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت لاکھوں فوجی تعینات ہیں۔ زیادہ تر کشمیری یا تو آزادی کے حق میں ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ کشمیر کے مشہور علیحدگی پسند باغی لیڈر برہان وانی کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی حکومت ان احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے اور انہیں کچلنے کے لیے کرفیو کے نفاذ، موبائل نیٹ ورک کی معطلی اور اخبارات ضبط کرنے جیسے حربے استعمال کر چکی ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک کشمیری کو بھارتی فوج کی طرف سے گاڑی کے آگے باندھ کر ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔