مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ امریکہ، کشکول بڑھائے بغیر300ملین ڈالرز امدادبحالی کا فرمان جاری
واشنگٹن ... پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے امریکہ پہنچتے ہی روائتی امریکی ڈالرز کی خوشبو چہار سو پھیلتی نظر آنے لگی ہے۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ میں اپنا سب سے زیادہ نقصان کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر اعظم کی امریکی سرزمین پر آمد کے ساتھ ہی صدر اوبامہ کی طرف سے شاہی فرمان جاری کردیا گیا کہ پاکستان کو سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی تیس کروڑ ڈالرز کی امداد بحال کردی جائے۔ پاکستان کو ملنے والی یہ امداد مئی 2011ء میں اس وقت معطل کر دی گئی تھی جب امریکی فوجیوں کے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے دوران اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات سردمہری کا شکار ہو گئے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے عشائیے میں شرکت اور رسمی ملاقات کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کے لیے معطل شدہ فوجی اور اقتصادی امداد کی بحالی کے لیے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ معروف امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں جان کیری نے روز کہا کہ دونوں ممالک کو بہت سے معاملات پر بات چیت کرنا ہے اور پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات اس سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتے جتنے کہ اس وقت ہیں۔ اسی دوران امریکی دفتر خارجہ نے کانگریس سے درخواست کی کہ پاکستان کے لیے سلامتی کے شعبے میں 300 ملین ڈالر سے زائد کی روکی گئی امداد بحال کر دی جائے۔ نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے پاکستانی امداد کی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ سکیورٹی معاملات میں تعاون کی بحالی کے عمل کا حصہ ہے جو کہ 2011 اور 2012 میں دو طرفہ چیلنجوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہو گیا تھا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی کی مد میں دی جانے والی امداد پاکستانی افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی جو پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کے دوران توانائی، تعلیم اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی وزیر کے درمیان یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی۔ اس ملاقات میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار، مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ جلیل عباس اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی موجود تھے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے باقاعدہ ملاقات سے قبل میڈیا کے روبرو مختصر بات چیت میں کہا کہ ہمارے پاس بات چیت کے لیے بہت کچھ ہے اور موجودہ صورتِ حال میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی جمہوریت اپنی معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے محنت کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے ملک میں جاری شدت پسندی سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی اور اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ محفوظ اور مستحکم پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور امریکی صدر کی ملاقات بدھ کے روز شیڈول ہے۔