مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
معمر افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانوی وزیر صحت کا ایشیائی خاندانوں کو خراج تحسین
سلائو ... صحت کے برطانوی وزیر نے عمر رسیدہ اور تنہائی کا شکار افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجموعی طور پر برطانوی معاشرہ انہیں وقت دینے کے حوالے سے بے حسی کا شکار ہے۔ جیریمی ہنٹ نے نیشنل چلڈرن اینڈ ایڈلٹ سروس کانفرنس کے موقع پر اپنی تقریر میں تنہائی کا مسئلہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی جدید دور کی بے پناہ مصروفیت کے باعث بحیثیت معاشرہ تنہائی کے مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف حکومت اور مقامی حکومت کے پاس نہیں ہےبلکہ تنہائی کا مسئلہ سماجی طور پر بھی حل کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ملکوں میں جہاں معمر افراد کا تنہا رہنا ناممکن ہے وہاں کئیر ہومزکا استعمال پہلی ترجیح کے بجائے آخری ترجیح کے طور پرکیا جانا چاہیے جیسا کہ ایشیائی ملکوں میں کیا جاتا ہے جہاں بزرگوں کوخاندان کے ساتھ عزت اور احترام سے رکھا جاتا ہے یہ ایک عمدہ مثال ہے جس پر برطانوی خاندانوں کو بھی عمل کرنا چاہیئے۔ جریمی ہنٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ، برطانوی معاشرہ مجموعی طور پر معمر افراد سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتا جارہا ہے جسے انھوں نے قومی شرمندگی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ،لاکھوں عمررسیدہ افراد کو کئیر ہومزمیں الگ تھلگ رہنے پر مجبورکیاجاتا ہےجہاں کوئی ان سےبات کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے اعداد شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں آٹھ لاکھ افراد قدرتی طور پر اکیلے رہ گئے ہیں جبکہ پچاس لاکھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹی وی ہی ان کا تمام وقت کا ساتھی ہے اور لمحہ فکریہ یہ ہے یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کا دس فیصد ہے۔ جیریمی ہنٹ نے کہا لاکھوں عمررسیدہ افراد کو کئیر ہومزمیں الگ تھلگ رہنے پر مجبورکیاجاتا ہےجہاں کوئی ان سےبات کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر رسیدہ افرادسے محبت کے اظہار کے لیےبارہا ان کے پاس جایا جائےاورانھیں رفاقت فراہم کی جائے۔ انھوں نے اپنی چینی بیوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، وہ معمر افراد کےساتھ احترام اور حسن اخلاق کی ایشیائی ثقافت سے متاثر ہیں جہاں عمر رسیدہ رشتے داروں کو بیٹے اور پوتے اپنے گھروں میں رکھتے ہیں اس کلچر کی تقلید کرنا برطانوی معاشرے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہو جہاں بزرگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہو اس طرح بچوں کوبھی یہ اطمینان رہے گا کہ کل جب وہ بوڑھے ہوں گے تو ان کی دیکھ بھال بھی ان کے اپنے گھر میں کی جائے گی تبھی نسلوں کے درمیان مضبوط رشتہ استوار کیا جاسکے گا ۔