مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
معمر افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانوی وزیر صحت کا ایشیائی خاندانوں کو خراج تحسین
سلائو ... صحت کے برطانوی وزیر نے عمر رسیدہ اور تنہائی کا شکار افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجموعی طور پر برطانوی معاشرہ انہیں وقت دینے کے حوالے سے بے حسی کا شکار ہے۔ جیریمی ہنٹ نے نیشنل چلڈرن اینڈ ایڈلٹ سروس کانفرنس کے موقع پر اپنی تقریر میں تنہائی کا مسئلہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی جدید دور کی بے پناہ مصروفیت کے باعث بحیثیت معاشرہ تنہائی کے مسئلے پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل صرف حکومت اور مقامی حکومت کے پاس نہیں ہےبلکہ تنہائی کا مسئلہ سماجی طور پر بھی حل کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ملکوں میں جہاں معمر افراد کا تنہا رہنا ناممکن ہے وہاں کئیر ہومزکا استعمال پہلی ترجیح کے بجائے آخری ترجیح کے طور پرکیا جانا چاہیے جیسا کہ ایشیائی ملکوں میں کیا جاتا ہے جہاں بزرگوں کوخاندان کے ساتھ عزت اور احترام سے رکھا جاتا ہے یہ ایک عمدہ مثال ہے جس پر برطانوی خاندانوں کو بھی عمل کرنا چاہیئے۔ جریمی ہنٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ، برطانوی معاشرہ مجموعی طور پر معمر افراد سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتا جارہا ہے جسے انھوں نے قومی شرمندگی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ،لاکھوں عمررسیدہ افراد کو کئیر ہومزمیں الگ تھلگ رہنے پر مجبورکیاجاتا ہےجہاں کوئی ان سےبات کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے اعداد شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں آٹھ لاکھ افراد قدرتی طور پر اکیلے رہ گئے ہیں جبکہ پچاس لاکھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ٹی وی ہی ان کا تمام وقت کا ساتھی ہے اور لمحہ فکریہ یہ ہے یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کا دس فیصد ہے۔ جیریمی ہنٹ نے کہا لاکھوں عمررسیدہ افراد کو کئیر ہومزمیں الگ تھلگ رہنے پر مجبورکیاجاتا ہےجہاں کوئی ان سےبات کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر رسیدہ افرادسے محبت کے اظہار کے لیےبارہا ان کے پاس جایا جائےاورانھیں رفاقت فراہم کی جائے۔ انھوں نے اپنی چینی بیوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ، وہ معمر افراد کےساتھ احترام اور حسن اخلاق کی ایشیائی ثقافت سے متاثر ہیں جہاں عمر رسیدہ رشتے داروں کو بیٹے اور پوتے اپنے گھروں میں رکھتے ہیں اس کلچر کی تقلید کرنا برطانوی معاشرے کی بھی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہو جہاں بزرگوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہو اس طرح بچوں کوبھی یہ اطمینان رہے گا کہ کل جب وہ بوڑھے ہوں گے تو ان کی دیکھ بھال بھی ان کے اپنے گھر میں کی جائے گی تبھی نسلوں کے درمیان مضبوط رشتہ استوار کیا جاسکے گا ۔