مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شہریوں نے لالچ میں جعلی آئی ڈی بزنس میں اپنا نقصان خود کیا،سینئر صحافیوں کی گفتگو
میرپور ... ڈپٹی کمشنر میرپور چوہدری گفتار حسین نے کہا ہے کہ ہم نے میرپور میں آئی ڈیز کے حوالے سے ہونے والے بزنس کے متعلق اہل علاقہ کو ابتداء ہی میں خبر دار کر دیا تھا کہ یہ کاروبار غیر قانونی ہے اور اس میں کسی قسم کی سرمایہ کاری سے پرہیز کیا جائے ہم نے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے میرپور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بار بار الرٹ کیا تھا کہ اس کاروبار میں سرمایہ کاری نہ کی جائے کیونکہ اسے قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس کے باوجود لالچ میں آ کر لوگوں نے بہت بڑی تعداد میں کلک آئی ڈیز بزنس کے نام سے قائم مختلف اداروں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی جس کا نتیجہ موجودہ بحران کی صورت میں سامنے آیا جب سے عوام کے علم میں آیا ہے کہ ان سے فراڈ ہوگیا وہ کورٹ کچہری اور مطاہروں میں جت گئے ہیں ہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کی رقوم کی واپسی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف ایم 93ریڈیو آزاد کشمیر کے پروگرام لائیوٹاک ود جنید انصاری میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں آزاد کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر عامر محبوب ، روزنامہ شاہین کے چیف ایڈیٹر خالد چوہدری، سٹیزن فورم کے رہنما سردار شفیق، ممتاز قانون دان امتیاز احمد راجہ ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔ ایکسپرٹ کے فرائض سینئر صحافی راجہ حبیب اللہ خان نے سرانجام دیئے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر محبوب ، خالد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے بعد میرپور کی انتظامیہ کا یہ فرض بنتا ہے کہ اربوں روپے کی رقوم کی واپسی اور بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق اس غیر قانونی کاروبار میں پانچ ارب روپے سے لے کر بیس ارب روپے تک کی رقم پھنسی ہوئی ہے۔ میرپور کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا فرض بنتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کرنے والے ہزاروں افراد کی مدد کریں اس کاروبار میں پس پردہ موجود خفیہ شخصیات کے بارے میں بھی سراغ لگانا بھی ضروری ہے جنہوں نے اس غیر قانونی کاروبار کی سرپرستی کی اور غیر ریاستی افراد کو میرپور آ کر یہ غیر قانونی دھندہ شروع کرنے کا موقع فراہم کیا۔ سٹیزن فورم کے رہنما سردار شفیق اور ممتا ز قانون دان امتیاز احمد راجہ ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے روز اول ہی سے انتظامیہ کو اس امر سے آگاہ کر دیا تھا کہ میرپور میں ڈبل شاہ کی اگلی قسط ’’ٹرپل شاہ‘‘ کا کام شروع کیاگیا ہے اور معصوم شہریوں کو سرمایہ کاری کے نام پر لالچ دے کر انہیں لوٹنے کا دھندہ شروع کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اعظم خان اور ہائی کورٹ کی جانب سے واضح احکامات کی پاسداری عملی شکل میں ہونا ضروری ہے اور عوام کی اصل رقم کی واپسی انتظامیہ کے فرائض میں شامل ہے۔ میرپور میں پہلے بھی مختلف ادوار میں سرمایہ کاری کے کاروبار میں لالچ دیتے ہوئے بڑے بڑے فراڈ کیے گئے ہیں عوام کو بھی چاہیے کہ وہ لالچ سے پرہیز کریں اور ایسے کاروباروں میں سرمایہ کاری سے بچیں۔ جن کو نہ تو سٹیٹ بینک آف پاکستان تحفظ دیتا ہے اور نہ ہی حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر اس کی ذمہ داری لیتے ہیں۔