مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نوازشریف لندن میں قیام کے بعد نجی طیارے پرلوٹن ائر پورٹ سے امریکہ پہنچ گئے !!
لندن ... وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف لندن میں چند گھنٹے آرام کے بعد نجی طیارے میں اپنی بیگم کلثوم نواز، مشیر سرتاج عزیز اور دیگر اقربا کے ہمراہ امریکہ پہنچ گئےجہاں پاکستانی سفیر جلیل عباس نے امریکی نمائندے رچرڈ اولسن کے ہمراہ ان کا استقبال کیا چند گھنٹوں بعدانکی امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات ہو ئی۔ نواز شریف کا دورہ امریکا گزشتہ کئی برسوں کے دوران کسی بھی پاکستانی رہنما کا سب سے اعلیٰ سطحی دورہ ہے جس میں بدھ 23 اکتوبر کو انکی امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات ہو گی۔ امریکہ جاتے ہوئے برطانوی دارالحکومت لندن میں مختصر قیام کے دوران اپنی رہائش گاہ واقع پارک لین کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ تارکین وطن پاکستان کا اثاثہ ہیں اور یہ کسی طور بھی پاکستان میں رہنے والوں سے کمتر حیثیت کے حامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک وجہ تنازعہ ہے جس سے اغماز ممکن نہیں ہم ایک پرامن قوم ہیں اور امن کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں امریکی صدر سے اس حوالے سے بھی بات ہو گی۔ افغانستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا افغانستان برادر ہمسایہ ملک ہے جسکے امن اور استحکام کے ہم اتنے ہی متمنی ہیں جتنا وہ خود، پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اسی پالیسی کے حامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ناصرف بجلی کی کمی پر قابو پانے کے اقدامات کر رہی ہے بلکہ آنے والے دنوں میں ہم عوام کو سستی بجلی مہیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ سے ڈرون حملوں کے بارے بھی مزاکرات ہوں گے کیونکہ ہم ان حملوں کو اپنی خود مختاری کے خلاف سمجھتے ہیں۔ واضع رہے کہ امریکہ اس وقت افغانستان سے انخلا کیلئے رومانیہ کی سرزمین کے استعمال کیلئے ان سے بات چیت کر رہا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری وطن کو بحران میں چھوڑ کر گذشتہ دنوں افغانستان آئے تھے تاکہ امریکی فوجوں کے انخلا کے پیش نظر جو معاملات حل طلب ہیں انہیں جلد نبٹا دیا جائے۔ ہفتہ کے روز ہی معروف برطانوی جریدے اکانومسٹ نے ایک تحقیقی رپورٹ بھی شائع کی جس میں کہا گیا کہ فاٹا کے لوگ طالبان کے ظلم سے نجات کیلئے ڈرون حملون کے حق میں ہیں۔ جبکہ ہمسایہ ملک بھارت بار بار لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کرکے الزام پاکستان کے سر تھوپ رہا ہے ایسے میں وزیر اعظم پاکستان کا دورہ امریکہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دیکھیں ایک ہی ماہ میں دوسرے دورے سے وہ اپنے ملک اور قوم کیلئے کیا حاصل کر پاتے ہیں۔