مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نریندر مودی کی آمد پر کشمیر فوجی کیمپ میں تبدیل،مظاہرے،ریلیاں،ہڑتال
سرینگر: قابض بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر وادی کو فوجی کیمپ میں تبدیل کردیا،جگہ جگہ فوج تعینات رہی،مودی کے دورے کیخلاف وادی میں مکمل شٹردائون ہڑتال کی گئی اور کاروباری مراکز بند رہے ،حریت پسندوں نے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کرکے مودی سے نفرت کا اظہارکیا۔حریت قیادت کو بھی اس موقع پر نظر بندکردیاگیا جبکہ وادی میں دو بم دھماکوں میں2بھارتی فوجی ہلاک اور13زخمی ہوگئے ۔ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل حریت قیادت نے دی تھی۔ سید علی گیلانی کو ہمسایہ خاتون کاجنازہ پڑھانے کی اجازت نہ ملی ،انہوں نے مجبوراً اپنے گھر میں خاتون کی نمازجنازہ پڑھائی۔مودی جموں علاقے ادھمپور میں چنانی ناشری سرنگ کے افتتاح کیلئے آئے تھے ۔ اس موقع پر سخت سکیورٹی قدامات کیے گئے تھے ۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے سرینگر اور دیگر علاقوں میں ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے تھے ،قابض فوج کی اتنی بڑی تعداد بھی مظاہروں اور ہڑتال کو نہ روک سکی،سرینگر سمیت وادی کے تمام بڑے شہروں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہی۔نام نہاد کشمیری اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالرشید کی قیادت میں ہزاروں افراد نے مودی کیخلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین قاتل قاتل کے نعرے لگارہے تھے ۔اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر عبدالرشید نے کہا کہ کشمیری عوام کو مودی سے کسی قسم کی اقتصادی مراعات کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں پیدائشی حق ، حق خود ارادیت چاہیے ۔مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرایا اور وہ بھارت کو مکمل طور پر ایک ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔کپواڑہ،بارہ مولا،اسلام آباد،اننت ناگ، کولگام اور ترال میں بھی مودی کی آمد کیخلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے ۔اس دوران قابض فوج اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔فوج کی فائرنگ اور شیلنگ سے متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ۔پونچھ میں دھماکے سے ایک بھارتی فوجی افسر ماراگیا۔فوجی ایل او سی کے قریب گشت پر تھاکہ دھماکے کی زد میں آگیا۔ادھر سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں گرنیڈ حملے میں ایک فوجی ہلاک اور13زخمی ہوگئے ۔یہ حملہ مودی کے دورے کی سکیورٹی سے واپس آنیوالے قافلے پر کیاگیا تھا۔پلوامہ میں قابض بھارتی فوج نے کریک ڈائون کرتے ہوئے مزید 15کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ایک ہفتے کے دوران گرفتارنوجوانوں کی تعداد40ہوگئی۔بھارتی وزیراعظم کے دورہ جموں و کشمیر کے خلاف آزاد کشمیر بھر میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ مظفرآباد میں کشمیری مہاجرین اور شہریوں نے سنٹرل پریس کلب کے باہرمظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔مودی نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے اودھمپور میں جموں سرینگر نیشنل ہائی وے طویل سرنگ کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قابض بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیری سیاحت اور دہشتگردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں،دہشتگردی سے کشمیریوں کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ان کا خون ہی بہے گا۔ہم سڑکوں کیساتھ دلوں کانیٹ ورک بھی کشمیریوں کیساتھ مضبوط کرینگے ۔کچھ گمراہ نوجوان سنگ باری کرتے ہیں۔مودی نے پاکستان کانام لیے بغیرکہا کہ جو ملک اپنے معاملات کو سنبھال نہیں سکتا وہ کشمیر میں داخل اندازی کررہاہے ۔آزاد کشمیر کے لوگ بھی دیکھیں کہ ہم نے کشمیر میں کتنے ترقیاتی کام کروائے ہیں۔قتل وغارت کسی کیلئے بھی مددگار نہیں ، گزشتہ چالیس سال سے وادی میں بہت سا خون بہہ گیا لیکن کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔