مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستانی وزیر خزانہ کی لندن میں ڈوئچے بنک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں
لندن ... برطانیہ کے دورے پر آئے پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کے ساتھ سٹریٹیجک شراکت کی راہ اختیار کی ہے تاکہ ان صنعتوں کو ہونے والے بھاری نقصان سے محفوظ رہا جاسکے، انھوں نے کہا کہ نجکاری کے اس پورے عمل کے دوران ملازمین کے حقوق کا پوری طرح تحفظ کیاجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف بزنس وفود سے ملاقاتوں میں کیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈوئچے بنک، آئی ایف سی، سٹی بینک اورحبیب بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے وفود سے ملاقات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے انھیں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر قیادت پاکستان میں خوشحالی لانے کے طریقہ کار اور ویژن سے آگاہ کیا ،ملاقات کے دوران آئی ایف سی اوردیگرمالیاتی اداروں کے وفود نے پاکستان کو تیل کی خریداری کیلئے آئی ایف سی کی زیر قیادت 50 کروڑ ڈالر کی تجارتی سہولت فراہم کرنے کیلئے ایک کنسورشیم قائم کرنے پر رضامندی کا اظہار بھی کیا گیا ۔ وزیر خزانہ نے اس بات پرخوشی کااظہار کیا کہ آئی ایف سی نے پہلی مرتبہ ایک نجی شعبے کے صارف کو مالیاتی سہولت کی فراہمی میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے آئی ایف سی اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے حکومت پاکستان کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ طویل بحث ومباحثے کے بعد دونوں فریق یہ سہولت لائبر کی شرح سے کم وبیش 4 فیصد زیادہ پر دینے پر رضامند ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے وفود سے پاکستان کے سرکاری شعبے کے 31 اداروں کی نجکاری کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ۔