مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرون حملون کی حقیقت کیا ؟؟
ڈرون حملوں کے بارے میں حکومت پاکستان یا امریکہ کی طرف سے کبھی بھی کھل کر کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔ مثال کے طور پر پاکستان اگر کہتا ہے کوئی فرد اگر منشیات اس ملک میں لائے گا تو اسے سزا ہوگی۔ اسی طرح امریکھ اگر یہ کہتا ہے کہ اس کے ملک میں دہشت گردی کے شبے میں بھی کسی کو پکڑ کر قید کیا جاسکتا ہے تو ان پالیسیوں پر عمل ہوتا ہے۔ لیکن ایک دنیا میں ایک ایسا عمل بھی ہورہا ہے جس پر کوئی واضع پالیسی سامنے نہیں لائی جاتی وہ ہے پاکستان کے قبائلی ولاقوں میں ڈرون حملے۔ امریکی جریدے اکانومسٹ نے اس سلسلے میں بڑی دلچسپ تحقیق کی ہے جس کے مطابق ایسا کوئی بھی ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیا لیا جائے جس میں غیر جانبدارانہ رائے لی گئی ہو تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کو عوام اپنے حفاظتی نقطہ نظر سے ڈرون حملوں کے حق میں ہیں۔ جریدے کے مطابق قومی سرووں میں پاکستانیوں کی اکثریت افغان سرحد کے قریب قبائلی پٹی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف سی آئی اے کے ڈرون حملوں کی مخالفت میں نظر آتے ہیں۔زیادہ تر پاکستانی ڈرون حملوں کوملکی خودمختاری ، امریکی تکبر اور شہریوں کی ہلاکت کی وجہ سمجھتے ہیں۔جریدے نے اس سلسلے میں قبائلی علاقوں کے 20رہائشیوں سے بات چیت کی جس میں انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں شہریوں کی زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوتیں۔شمالی وزیرستان کے ایک بزرگ کا کہنا تھا کہ اصل تصویر دکھانے کی کوئی ہمت نہیں کرتا۔ ڈرون حملے ان عسکریت پسندوں کو قتل کر رہے ہیں جو معصوم لوگوں کو قتل کر تے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی ایک اسکول کی منتظم صوفیہ خان نے سیکڑوں ڈرون مخالف کارکنوں کے ساتھ قبائلی علاقوں (فاٹا ) کا سفر کیا تو وہ ڈرون حملوں کے حق میں بعض قبائلیوں کی رائے سن کر وہ دنگ رہ گئی ۔جنوبی وزیرستان کے ایک شخص نے گرم جوشی سے بتایا کہ وہ اور اس کا خاندان چاہتا ہے کہ ڈرون حملے جاری رہیں اور ان کے گھروں کے اوپر فضاوٴں میں ڈرونز گشت کریں۔ غیر ملکی صحافیوں کو ان علاقوں تک رسائی مشکل ہے۔لیکن خطے کے کئی ماہرین اور محققین اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے ۔لوگوں کی قلیل تعداد اس بارے اظہار خیال کو تیار ہوتی ہے۔جریدہ لکھتا ہے کہ فاٹا میں سروے کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ان علاقوں میں2009کا سروے میں52فی صد نے ڈرون حملوں کو درست قرار دیا اور 60 فیصد کا خیال تھا کہ ان حملوں سے عسکریت پسند گروپ کمزور ہوئے۔ دیگر سروے بھی ڈرون حملوں کے حق میں بہت کم شرح دکھاتے ہیں۔ان ڈرون حملوں کی درستگی کے بارے امریکی دعووں کی تصدیق مشکل سے ہوتی ہے۔زیادہ تر ان حملوں کی معلومات ان اعداد وشمار پر مشتمل ہے جو مانیٹرنگ گروپ اکھٹا کرتے ہیں اور ان کا انحصار بھی میڈیا رپورٹ پر ہے۔تاہم برطانوی تھنک ٹینک کا سروے میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ رواں برس22ڈرون حملوں میں کوئی بھی شہری ہلاک نہیں ہوا۔یہ ثبوت ہی کافی ہے کہ حکومت پاکستان نے سی آئی اے کے پروگرام کو اپنی خفیہ آشیر باد دے رکھی ۔ایک سابق امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں پر ملکی غم و غصہ بھی دیگر مسائل پر بات چیت میں مفید ہو سکتا ہے اور حکومت پاکستان کو عسکریت پسندوں کے حملوں کا بھی خدشہ ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ بھی ظاہری عوامی ردعمل کی وجہ سے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے سے کتراتے ہیں۔ 2010 کا ایک واقعہ سبق کیلئے ان کا سامنے ہیں جبکچھ سیاستدانوں اور این جی اوز کے نمائندوں نے ڈرون حملوں کے حق میں ایک قارداد سائن کی تو ان کا جینا حرام کر دیا گیا۔ سید عالم محسود جس نی اس کام کا بیڑا اتھایا تھا کچھ عرصہ جلا وطنی میں بھی گزار کر آئے ان کا کہنا تھا کہ یہ واضع پیغام تھا کہ جو کوئی بھی ایسا بولے گا وہاں نہیں رہے گا۔ حالیہ انتخابات میں ایسے ڈرونز کی بھرپور مخالف جماعتیں مرکز اور خیبر پختون خواہ میں برسراقتدار ہیں مگر ڈرون حملے نہیں رکے۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے کہ بےلگام طالبان کو قابو کرنے کےلئے ڈرون ہی موثر پتھیارثابت ہو رہے ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو کافی تلخ ہے اسی لئے اسے آشکار کرتے ہوئے حکومتوں کے پر جلتے ہیں۔