مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہم سے انسانوں والا سلوک کیا جائے ،جرمنی میں پناہ گزینوں کی ہڑتال میں شدت ..!!
برلن ... سیاسی پناہ سے متعلق اپنی پالیسوں کی وجہ سے جرمنی کو احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ یہ مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ایک بھوک ہڑتالی کیمپ جرمن دارالحکومت برلن میں جاری ہے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ شرکاء کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ تشویشناک صورتحال کے باعث 3 افراد کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ اس احتجاجی کیمپ میں شریک احتجاجی مظاہرین اجتماعی رہائش میں رہتے ہیں۔ ان افراد کو محدود پیمانے پر سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کام کرنے کی اجازت تو بالکل ہی نہیں ہے۔ جولس زاوا بھی اسی عارضی کیمپ میں موجود ہیں اور بھوک ہڑتال کی وجہ سے وہ کمزور ہو چکے ہیں۔ اس کیمپ کی چھتیں مومی کاغذ کی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ آج کی جدید اور سائنسی دنیا میں بھی کوئی پتھر کے زمانے کی جھونپٹری میں رہ رہا ہے۔ یہ احتجاجی کیمپ جرمن دارالحکومت برلن کے مشہور مقام ’برانڈن برگ گیٹ‘ کے قریب ’پریزر پلاٹس‘ پر لگایا گیا ہے۔ ہوا میں خنکی ہے اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ افریقی ملک کانگو سے تعلق رکھنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی زاوا کا کہنا ہے کہ میں نے گزشتہ آٹھ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا اور تین دنوں سے کچھ بھی نہیں پیا۔ میں اب کمزور ہو چکا ہوں۔ زاوا کے ارد گرد ایسے مزید 23 افراد ہیں، جو اس بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔ گزشتہ روز ان کی تعداد زیادہ تھی لیکن تشویشناک صورتحال کے باعث تین افراد کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا تھا۔ زاوا کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے زور دے کر کہنا تھا کہ ہماری ایک ہی منزل ہے۔ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کیا جائے، ہمیں آزاد گھومنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ شرکاء کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ نیم طبی عملے کی مدد کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔