مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہم سے انسانوں والا سلوک کیا جائے ،جرمنی میں پناہ گزینوں کی ہڑتال میں شدت ..!!
برلن ... سیاسی پناہ سے متعلق اپنی پالیسوں کی وجہ سے جرمنی کو احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ یہ مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ایک بھوک ہڑتالی کیمپ جرمن دارالحکومت برلن میں جاری ہے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ شرکاء کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ تشویشناک صورتحال کے باعث 3 افراد کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ اس احتجاجی کیمپ میں شریک احتجاجی مظاہرین اجتماعی رہائش میں رہتے ہیں۔ ان افراد کو محدود پیمانے پر سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کام کرنے کی اجازت تو بالکل ہی نہیں ہے۔ جولس زاوا بھی اسی عارضی کیمپ میں موجود ہیں اور بھوک ہڑتال کی وجہ سے وہ کمزور ہو چکے ہیں۔ اس کیمپ کی چھتیں مومی کاغذ کی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ آج کی جدید اور سائنسی دنیا میں بھی کوئی پتھر کے زمانے کی جھونپٹری میں رہ رہا ہے۔ یہ احتجاجی کیمپ جرمن دارالحکومت برلن کے مشہور مقام ’برانڈن برگ گیٹ‘ کے قریب ’پریزر پلاٹس‘ پر لگایا گیا ہے۔ ہوا میں خنکی ہے اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ افریقی ملک کانگو سے تعلق رکھنے والے سیاسی پناہ کے متلاشی زاوا کا کہنا ہے کہ میں نے گزشتہ آٹھ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا اور تین دنوں سے کچھ بھی نہیں پیا۔ میں اب کمزور ہو چکا ہوں۔ زاوا کے ارد گرد ایسے مزید 23 افراد ہیں، جو اس بھوک ہڑتال میں شامل ہیں۔ گزشتہ روز ان کی تعداد زیادہ تھی لیکن تشویشناک صورتحال کے باعث تین افراد کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا تھا۔ زاوا کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے زور دے کر کہنا تھا کہ ہماری ایک ہی منزل ہے۔ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کیا جائے، ہمیں آزاد گھومنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ شرکاء کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ نیم طبی عملے کی مدد کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔