مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی معیشت کو 24 ارب ڈالر کا نقصان
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 16 روزہ کاروبارِ حکومت کی جزوی بندش نے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا، اور یہ کہ حکومتی اقدامات کے بارے میں جاری غیر یقینی صورتِ حال کے باعث معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شٹ ڈاؤن کے اقتصادیات پر پڑنے والے اثرات کے اعداد و شمار ابھی اکٹھی کیے جارہے ہیں، جب کہ لگائے جانے والے اندازوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ تاہم، کریڈٹ ریٹنگ ادارے ’اسٹینڈرڈ اینڈ پورز‘ کا کہنا ہے کہ اِس کے باعث امریکی معیشت کو ، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، کم از کم 24 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا اور ملک کی شرح افزائش سست روی کا شکار رہی۔ دوسرے تحقیقی ادارے، ’میکرواکانامک ایڈوائزرز‘ نے نقصان کے شمار کو 12 ارب ڈالر قرار دیا ہے۔ صدر براک اوباما کے بقول اِن گذشتہ چند ہفتوں کے دوران، ہماری معیشت کو صریحاً، خواہ مخواہ کا نقصان پہنچا۔ ہمیں ابھی تک نقصان کا صحیح اندازہ نہیں ہو پایا، لیکن ہر تجزیہ کار خیال کرتے ہیں کہ اِس کے باعث ہماری شرح نمو میں کمی آئی۔ ایسے میں جب فرلو پر جانے والے آٹھ لاکھ حکومتی کارکنوں کو گذشتہ دِنوں کا معاوضہ دینا ہوگا، معیشت داں کہتے ہیں کہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے اثرانداز ہونے والے کچھ کاروبار اس قابل نہیں ہوں گے کہ اُن کے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔ شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں نیشنل پارکس کو بند کرنا پڑا، جس کے باعث قرب و جوار کے کاروبار کو نقصان پہنچا، جب صارفین نے اپنی چھٹیاں منسوخ کردیں۔ کاروبار کے دیگر اداروں اور کسانوں کو قرضہ جات کے معاملے میں بروقت حکومتی منظوری نہ مل سکی، یا پھر یہ کہ وہ اضافی شرح سود پر بینکوں سے قلیل مدتی قرض لینے پر مجبور ہوئے۔ ملک کے سب سے بڑے بینک جے پی مارگن چیز کے چیف اکنامسٹ، جیمز گلاسمین کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن سے معاشی نقصانات ہوئے، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ فرلو پر جانے والے زیادہ تر حکومتی ملازمین اب چھٹیاں منا کر واپس آرہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ امریکی شہری واشنگٹن سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حزب اختلاف کے منتخب نمائدگان پر زور دیا کہ وہ بجٹ، امیگریشن اور زرعی فارموں پر قانون سازی کرنے کے لیے تعاون کریں۔ معاہدے پر دستخط کر کے اسے قانون کا درج دینے کے چند گھنٹے بعد اوباما نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات نے امریکی معیشت کو بالکل غیر ضروری طور پر نقصان پہنچایا ہے جس سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو ایسے بجٹ ترتیب دینے چاہیں جن سے قرضہ کم ہو، تعلیم اور سماجی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی جائے، غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور کارپورٹ میں سقم ختم کیے جائیں۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کو اس سال کے آخر تک امیگریش قانون کو حتمی شکل دے دینی چاہیے۔