مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستانی جوڑے پرذاتی خدمتگار لڑکی کی سمگلنگ، بینیفٹ کلیم اورجنسی استحصال کے جرم ثابت
مانچسٹر ... پاکستانی و کشمیری تارکین وطن سے بھرے علاقے سالفورڈ میں ایک پاکستانی مسلمان عمر رسیدہ جوڑے کو کم سن گونگی لڑکی پاکستان سے سمگل کرنے اور دس سال تک اسے غلام بنا کر رکھنے کے جرم میں سزا کا سامنا ہے۔ 86 سالہ بزرگ عاشر اور اسکی 64 سالہ بیوی کو 23 اکتوبر کو مانچسٹر کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی۔ آشر کو ریپ کے تیرہ الزامات کا بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ اسکی بیوی اور بیٹی کو اس معصوم بچی کے نام پر بینیفٹ کلیم کرنے کا بھی جرم ثابت ہو چکا ہے۔ ملزمان کی شناخت عدالتی پابندی کے بعد اسوقت جاری کی گئی ہے جب ان پر الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔ میاں بیوی اس گونگی بہری لڑکی کو پاکستان سے لائے تھے اورسالفورڈ میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھتے تھے۔ جوڑے کو لڑکی اسمگل کر کے برطانیہ لانے، اس کو دس سال تک تہہ خانے میں مقید رکھنے اور اسے جنسی غلام بنائے رکھنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ س لڑکی کا نام قانونی وجوہات کی وجہ سے شائع نہیں کیا جا سکتا۔ الیاس عاشر کے گھر میں غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کے بعد ٹریڈنگ سٹینڈرڈز کے حکام نے چھاپہ مارا جس دوران اس لڑکی کو بازیاب کرایا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی سے گھر کی صفائی اور کھانا پکوایا جاتا تھا اور اسے خاندان کے دوسرے گھروں میں بھی کام کرنے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔ تفصیلات سامنے لانے کیلئے لڑکی کو باقاعدہ اشاروں کی زبان سکھائی گئی جس بارے میں ظالم میاں بیوی نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ پولیس کے مطابق اس لڑکی کے نام پر ہزاروں پاؤنڈ کی مراعات حاصل کی گئیں جس میں ان کی اپنی سگی بیٹی فائزہ بھی شامل ہے اور اس پر بھی جرم ثابت ہو چکا ہے۔ جس پاسپورٹ پر یہ لڑکی سنہ دو ہزار میں برطانیہ آئی تھی اس کے مطابق اُس وقت اُس کی عمر بیس سال تھی۔ اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امیگریشن کا عملہ ان کی عمر کے فرق کو کیسے نہیں دیکھ سکا۔ ادھر ہوم آفس نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ایسی قانون سازی کی جائے گی جسکے تحت وہ افراد کو جنسی استحصال کے لیے ورکرز کو برطانیہ لاتے ہیں ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جا سکے۔ اس سلسلے میں ہوم سیکریٹری تھریسا مے نے مسودہ قانون شائع کردیا اور توقع ہے کہ اسے 2014ء میں قانون بنا دیا جائے گا۔ ہوم آفس کے مطابق اس قانون کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ انسانی سمگلروں، سنگین جنسی تشدد اور دوسرے پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کو عمرقید کی سزا دی جائے۔ ماڈرن سلیوری بل کے بارے میں گزشتہ ماہ شوریٰ کانفرنس میں تھریسا مے نے بتایا تھا کہ اس قانون کے تحت انسانی سمگلروں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ سزاؤں کا اطلاق پہلے سے سزا پانے والے مجرموں پر بھی ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ جنسی جرائم میں سزائیں پانے والے کئی پاکستانیوں کی سزائیں بھی بڑھ جائیں گی۔ جبکہ بدھ کے روز مجرم قرار دیے گئے پاکستان نژاد برطانوی باشندے الیاس اشعر کی سزا کے بھی مستقبل میں بڑھنے کا امکان ہے۔