مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں تین کروڑ افراد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور: سروے رپورٹ
ایڈیلیڈ ... انسانی حقوق اور شخصی آزادی کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم واک فری فائونڈیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں تین کروڑ کے لگ بھگ افراد آج بھی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ گلوبل سليوری انڈيکس میں 162 ممالک کو شامل کیا گیا جسکے مطابق اس وقت دنيا بھر ميں تقریبا تيس ملين افراد کسی نہ کسی طرح غلامی ميں زندگی بسر کر رہے ہيں۔ ان اعداد و شمار میں انسانی تعداد کے اعتبار سے بھارت میں اسے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے جہاں تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کہ افریقی رياست موریطانیہ ان ممالک کی فہرست ميں پہلے نمبر پر ہے جہاں مجموعی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ غلام موجود ہیں۔ موریطانیہ ميں پائی جانے والی وسيع تر غلامی موروثی ہے جو سالوں سے چلی آ رہی ہے اور غلاموں کی حيثيت سے زندگی گزارنے والے افراد کو خريدا، بيچا ،کرائے پر چلايا اور تحفے کے طور پر ديا جا سکتا ہے۔ وہاں مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر ان کے بچوں سے گھروں يا کھيتوں ميں کام بھی کرايا جاتا ہے۔ واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق انڈیا، چین، پاکستان، اور نائجیریا میں غلامی میں زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پانچ ممالک ایسے ہیں جن کو اس میں شامل کر لیا جائے تو اس جدید غلامی میں رہنے والے کل افراد کی تعداد کا تین چوتھائی حصہ دس ممالک میں آباد ہے۔ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ جو ہم بتانا چاہتے ہیں وہ کئی حکومتوں کو پسند نہیں آئے گا۔ جو حکوتیں ہم سے رابطہ کرنا چاہتی ہیں ہم ان سے کھل کر بات کریں گے اور جدید قسم کی غلامی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے راستے تلاش کریں گے۔