مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں تین کروڑ افراد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور: سروے رپورٹ
ایڈیلیڈ ... انسانی حقوق اور شخصی آزادی کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم واک فری فائونڈیشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں تین کروڑ کے لگ بھگ افراد آج بھی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ گلوبل سليوری انڈيکس میں 162 ممالک کو شامل کیا گیا جسکے مطابق اس وقت دنيا بھر ميں تقریبا تيس ملين افراد کسی نہ کسی طرح غلامی ميں زندگی بسر کر رہے ہيں۔ ان اعداد و شمار میں انسانی تعداد کے اعتبار سے بھارت میں اسے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے جہاں تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کہ افریقی رياست موریطانیہ ان ممالک کی فہرست ميں پہلے نمبر پر ہے جہاں مجموعی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ غلام موجود ہیں۔ موریطانیہ ميں پائی جانے والی وسيع تر غلامی موروثی ہے جو سالوں سے چلی آ رہی ہے اور غلاموں کی حيثيت سے زندگی گزارنے والے افراد کو خريدا، بيچا ،کرائے پر چلايا اور تحفے کے طور پر ديا جا سکتا ہے۔ وہاں مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر ان کے بچوں سے گھروں يا کھيتوں ميں کام بھی کرايا جاتا ہے۔ واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق انڈیا، چین، پاکستان، اور نائجیریا میں غلامی میں زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پانچ ممالک ایسے ہیں جن کو اس میں شامل کر لیا جائے تو اس جدید غلامی میں رہنے والے کل افراد کی تعداد کا تین چوتھائی حصہ دس ممالک میں آباد ہے۔ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ جو ہم بتانا چاہتے ہیں وہ کئی حکومتوں کو پسند نہیں آئے گا۔ جو حکوتیں ہم سے رابطہ کرنا چاہتی ہیں ہم ان سے کھل کر بات کریں گے اور جدید قسم کی غلامی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے راستے تلاش کریں گے۔