مقبول خبریں
روٹری کلب کے راہنما ڈاکٹر سہیل قریشی کے اعزاز میں سماجی کمیونٹی شخصیت چوہدری محمود کا استقبالیہ
پاکستان سے آئے وکلا کے اعزاز میں ورلڈ وائیڈ سالیسٹرز کے ڈائیریکٹر محمد اشفاق کا استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا کنزرویٹو پارٹی لیڈر شپ کیلئے وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ کی حمایت کا اعلان
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ میں نورا کشتی کاخاتمہ،صدر اوباما کے دستخط کے بعد قرض کی حد بڑھانے کا بل قانون بن گیا
نیویارک ... امریکہ میں کئی دنوں سے جاری نورا کشتی کا بالآخر خاتمہ ہوگیا، جس سے اقتصادی بحران کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے۔ شٹ ڈاوٴن کے خاتمے اور قرض کی حد بڑھانے کا بل کانگریس سے منظور کرلیا گیا، صدر اوباما کے دستخط کے بعد یہ بل قانون بن گیا ہے۔ کانگریس کی منظوری کے بعد امریکی صدر بارک اوباما نے بل پر دستخط کردیے جس کے بعد امریکا میں جاری اضطراب کی لہر کا خاتمہ ہوگیا۔وائٹ ہاوٴس میں صحافیوں سے مختصرخطاب میں صدرباراک اوباما نے کہا کہ ڈیموکریٹس اورریپبلکن کو ملک کوآگے لے جانے کیلیے اسی طرح اتحاد کامظاہرہ کرنا ہوگا۔ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی ڈیموکریٹس کے قائد ہیری ریڈ اور امریکی صدر کی اقلیتی جماعت ری پبلکن کے سربراہ مِچ میکونیل نے بدھ کو واشنگٹن میں ایک سمجھوتے کا اعلان کیا تھاجس کے تحت فریقین نے قومی مفاد کیلئے ملک کو مالی بحران سے بچانے کے لیے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا ۔ سمجھوتے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت 15جنوری تک جاری رہے گا اور امریکی سرکار کے قرض لینے کی حد اتنی بڑھادی جائے گی جس سے سات فروری تک نادہندگی کے خطرے سے بچا جاسکے گا۔ ریڈ اور میکو نیل کی جانب سے تجویز کردہ منصوبہ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو کر بالآخر قانون بن گیا۔ سینیٹ میں ایوانِ نمائندگان کے ری پبلیکن اسپیکر جان بینر کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اُن کی جماعت دوطرفہ حمایت والےسمجھوتے کو روکنے کا سبب نہیں بنے گی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے دونوں فریقوں کی طرف سے طے کردہ تجویز پر سینیٹ کے قائدین کو سراہا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھاکہ صدر براک اوباما پُرامید ہیں کہ کانگریس کے دونوں ایوان اس قانون سازی کو فوری طور پر منظور کرلیں گے۔ خیال رہے کہ جمعرات، 17 اکتوبر قومی قرضہ جات کی ادائیگی کی حتمی تاریخ ہے جب نادہندہ ہونے سے بچنے کے لیے امریکی وزارتِ خزانہ کو واجب الادا بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کرنی ہے۔ نئے مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے امریکی حکومت بھی گزشتہ تین ہفتوں سے شٹ ڈاؤن ہے جس کے دوران میں وفاقی انتظامیہ کے 22 لاکھ میں سے آٹھ لاکھ ملازمین بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ کئی سرکاری اداروں اور تفریحی مقامات میں کام بند ہے۔