مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم افراد کا پولیس پر دستی بم سے حملہ، ایک شخص ہلاک، 3زخمی
سری نگر:مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ کے مقام پر نامعلوم افراد نے پولیس کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں مران چوک پر نامعلوم افراد نے پولیس کے قافلے پر دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جب کہ 3 زخمی ہوگئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی ضلع شوپیاں میں نامعلوم افراد نے فوجی گاڑی پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے تھے ۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو یوم مزاحمت کے موقع پر لوگوں نے زبردست بھارت مخالف مظاہرے کئے اس دوران حریت رہنمائوں سمیت متعدد افراد کو زیر حراست لے لیا گیا ،بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔سرینگر، بڈگام، بانڈی پورہ ، حاجن ، بارہمولہ ، سوپور، پلہالن ، اسلام آباد، پلوامہ، شوپیان ،کولگام اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر زبردست مظاہرے کئے ۔مظاہرین نے آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے اور پاکستانی جھنڈے لہرائے ۔ مظاہرین کی قیادت حریت رہنمائوں آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، نور محمد کلوال ، شوکت احمد بخشی، شبیر احمد ڈار، محمد اقبال میر ، تحریک حریت اور عوامی ایکشن کے اراکین نے کی۔ سرینگر، سوپور ، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گن ، پاواشیل اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کے بعدمظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی۔پولیس کی کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔کٹھ پتلی حکام نے حریت رہنما سید علی گیلانی کوگھر میں نظربند رکھا۔ مختار احمد وازہ بدستور زیر حراست رہے ۔ بھارتی پولیس نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری شبیر احمد شاہ کو ترال قصبے سے گرفتار کرلیا وہ وہاں ممتاز مجاہد کمانڈر برہان وانی کے والدین سے ملاقات کیلئے گئے تھے ۔