مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
دہشت گردی کے شبہ میں چار مختلف ممالک کے برٹش نوجوان ڈرامائی انداز میں گرفتار !!
لندن ...دہشت گردی کے شبہ میں لندن سے گرفتار کئے گئے چار نوجوانوں کے بارے میں متضاد آرا پائی جا رہی ہیں۔ترکش نژاد برٹش، الجیرین نژاد برٹش، آذربائجان نژاد برٹش اور پاکستان نژاد برٹش، نوجوانوں کے باہمی رابطوں بارے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ جن جن علاقوں سے آپریشن کے بعد ان کوگوں کو گرفتار کیا گیا وہاں کے مکینوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انہیں کبھی کسی قسم کی پراسرار سر گرمیوں کا شبہ تک ہی ہوا۔28 سالہ پاکستانی نژاد نوید بلوچ کے بارے میں اس کی ایک سال بڑی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ وہ تو اپنے کام سے کام رکھنے والا نوجوان ہے جو باقاعدگی سے نماز بھی ادا نہیں کرتا۔ واضع رہے کہ پولیس نے متعدد آپریشن کرکے تگ و دو کے ساتھ ان نوجوانوں کی گرفتاری ممکن کی ایک آپریشن مین چلتی ہوئی کاروں کے ٹائر فائر کرکے پھاڑے گئے۔ پولیس کا ایک دعوا ہے کہ یہ نوجوان برطانیہ میں کراچی طرز کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گرفتار شدگان نیروبی طرز کے بم حملوں کا ارادہ رکھتے تھے۔ انٹیلی جنس کی ان رپورٹوں کے بعد ایم آئی فائو کے اہلکار چاروں افراد کی کچھ عرصے سے نگرانی کررہے تھے۔ سیکورٹی اور مقامی ذرائع کے مطابق پاکستان نژاد برٹش پاکستانی نوید بلوچ کو جنوب مغربی لندن کے علاقے پیکہم کے فلیٹ سے گرفتار کیاگیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نوید بلوچ کاتعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے لیکن اس نے اپنی سیکنڈری سکول کی تعلیم جنوبی لندن کے علاقے والمورتھ سے حاصل کی۔ پڑوسیوں کاکہنا ہے کہ کم و بیش 20مسلح پولیس افسران نے پیکہم کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور ایک 29 سالہ شخص کو جس کے ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں لے کر باہر نکلے گارڈین کی رپورٹ کے مطابق وہ فلیٹ جہاں سے نوید بلوچ کو گرفتار کیا ایک 57 سالہ خاتون رشیدہ بلوچ کی ملکیت ہے اخبار کے مطابق نوید اس فلیٹ میں اپنے کم از کم 3 کمسن بچوں کے ساتھ مقیم تھا جو حال ہی میں پاکستان سے اس کے پاس آئے تھے ۔ ایک پڑوسی نے اخبار کوبتایا کہ میں نے پہلے اس سے بات کی تھی وہ بہت نفیس انسان تھاہم نے صرف کام اور دیگر امور پر بات چیت کی تھی، میں نے اس میں کبھی کوئی مشکوک بات نہیں دیکھی، خیال کیاجاتا ہے کہ نوید بلوچ قریبی پاک بوچرز کے نام سے موجود قصائی کی دکان میں ملازمت کرتاتھا۔ اور ہر اتوار کو فٹبال کھیلنے جاتا تھا۔ جس طرح یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اس پر عینی شاہدین نہ صرف حیران بلکہ پریشان بھی ہیں۔چار افراد کی گرفتاری کےلئے کم و بیش چھ ایڈریسوں پر چھاپے مارے گئے ایک نوجوان کی گرفتاری کےلئے تو پولیس آفیسر کو باقاعدہ کشتی لڑنا پڑی۔ یہ واقعہ مغربی لندن کے علاقے ویسٹ بورن گروو میں پیش آیا۔ اس مڈبھیڑ کی ویڈیو فوٹیج بھی یو ٹیوب پر ڈال دی گئی ہے۔ گرفتار ہونے والے شخص کی زبان سمجھنے والے ایک عینی شاہد نے نیوز رپورٹر کو بتایا کہ اپنی گرفتاری کی وجہ پوچھ رہا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا میرا بازو مت توڑو۔