مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
جنوبی دمشق میں جان بچانے کے لئے مسلمانوں کو کتے اور بلی کا گوشت کھانے کی اجازت !!
دمشق ...شام میں حکومت اور باغیوں کی ضد اور جنگ میں راکھ اور کھنڈرات کا ڈھیر بنے جنوبی دمشق کے علما نے جان بچانے کے لئے مسلمانوں کو کتے اور بلی کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی ہے۔ علماء کے ایک گروپ نے فتویٰ دیا ہے کہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں بھوک کا شکار لوگ بلی، کتے اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ علماء نے یہ فتویٰ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپوں کے دوران محصور ہونے والے افراد کے لیے دیا ہے۔ واضع رہے کہ دنیا بھر میں کام کرنے والی سینکڑوں رضاکار تنظیموں نے عید قربان کے موقع پر مسلمانوں سے یہ کہہ کر پیسے بتورے ہیں کہ وہ شام کے مصیبت زدہ مسلمانوں کو قربانی کا گوشت مہیا کریں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی دمشق جہاں حکومت مخالف باغیوں کی اکثریت ہے کسی قسم کی اسد نہ ہونے کے باعث لوگ بھوک سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک ویڈیو کے ذریعے دیے جانے والے اس فتوے میں علماء نے پوری دنیا پر زور دیا کہ وہ مضافاتی علاقوں میں لڑائی سے متاثرہ افراد کی مدد کرے۔ علماء کے مطابق ان علاقوں میں روزانہ ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جاری ہونے والے فتوے میں ان علاقوں میں رہ جانے والے افراد کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کتے، بلی اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ حالانکہ عام حالات میں اسلام میں کتے، بلی اور گدھے کا گوشت انسانی استعمال کے لیے حرام ہے۔