مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنوبی دمشق میں جان بچانے کے لئے مسلمانوں کو کتے اور بلی کا گوشت کھانے کی اجازت !!
دمشق ...شام میں حکومت اور باغیوں کی ضد اور جنگ میں راکھ اور کھنڈرات کا ڈھیر بنے جنوبی دمشق کے علما نے جان بچانے کے لئے مسلمانوں کو کتے اور بلی کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی ہے۔ علماء کے ایک گروپ نے فتویٰ دیا ہے کہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں بھوک کا شکار لوگ بلی، کتے اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ علماء نے یہ فتویٰ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپوں کے دوران محصور ہونے والے افراد کے لیے دیا ہے۔ واضع رہے کہ دنیا بھر میں کام کرنے والی سینکڑوں رضاکار تنظیموں نے عید قربان کے موقع پر مسلمانوں سے یہ کہہ کر پیسے بتورے ہیں کہ وہ شام کے مصیبت زدہ مسلمانوں کو قربانی کا گوشت مہیا کریں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی دمشق جہاں حکومت مخالف باغیوں کی اکثریت ہے کسی قسم کی اسد نہ ہونے کے باعث لوگ بھوک سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک ویڈیو کے ذریعے دیے جانے والے اس فتوے میں علماء نے پوری دنیا پر زور دیا کہ وہ مضافاتی علاقوں میں لڑائی سے متاثرہ افراد کی مدد کرے۔ علماء کے مطابق ان علاقوں میں روزانہ ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جاری ہونے والے فتوے میں ان علاقوں میں رہ جانے والے افراد کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کتے، بلی اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ حالانکہ عام حالات میں اسلام میں کتے، بلی اور گدھے کا گوشت انسانی استعمال کے لیے حرام ہے۔