مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
معروف گلوکار عدنان سمیع کو "لفٹ" مل گئی ، بھارتی ویزے میں تین ماہ کی توسیع .. !!
ممبئی ... بھارتی وزارت داخلہ نے عدنان سمیع کی درخواست پر ان کے رہائشی ویزے میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔کم مدتی ویزہ پر بھارت میں مقیم پاکستانی گلوکار عدنان سمیع کی طلاق شدہ بیوی سے لڑائی نے نیا موڑ لے لیا تھا۔ فیملی کورٹ باندرہ میں جاری مقدمے جسکی وجہ لوکھنڈوالا کا بیش قیمت فلیٹ ہے میں جج نے عدنان سمیع سے پوچھ ڈالا کہ آپ کے ویزہ کی مدت ختم ہوچکی، کیا نئے ویزے کے لئے درخواست دی؟ اس کا تصدیق شدہ جواب داخل کرنے کیلئے انہیں ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔ عدنان سمیع کئی برس سے بھارت میں رہ رہے ہیں۔ ان کے موجودہ ویزے کی مدت چھبیس ستمبر 2012 سے چھ اکتوبر 2013 تک تھی۔ عدنان کا ممبئی کے ایک فلیٹ کی ملکیت کے حوالے سے اپنی سابقہ بیوی صبا گالادری کے ساتھ مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ جنکا کہنا ہے کہ انکا فلیٹ کی خریداری میں ناصرف حصہ ہے بلکہ یہ فلیٹ انہیں گفٹ کیا گیا تھا۔ واضع رہے کہ آجکل عدنان سمیع اسی فلیٹ میں اپنی تیسری بیوی کے ساتھ مقیم ہیں۔ ممبئی پولیس کا کہنا تھا کہ اگر عدنان اس نوٹس کا جواب نہیں دیتے اور غیر ملکی شہریوں کے لیے نافذ ضابطوں پر عمل نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف متعلقہ ضابطوں کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا نے عدنان سمیع سے کہا تھا کہ وہ فوراً بھارت چھوڑ دیں۔ عدنان نے شیو سینا کے ایک رہنما سے ملاقات بھی کی تھی اور ان سے اپنے ویزے کے سلسلے میں تعاون کی درخواست کی تھی۔