مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دہشتگردی کے لیے مالی تعاون کے خلاف کاروائی کیلئے امریکہ بھارت معاہدے کا اعادہ
واشنگٹن ... امریکی دارالحکومت میں قائم بھارتی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے اقتصادی امور کے اہلکاروں کے درمیان سالانہ مذاکرات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ غیر قانونی مالی نیٹ ورکس کے انسداد اور باالخصوص دہشتگردی کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے والی تنظیموں کی رقم جمع کرنے کے عمل کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔ بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بھارت کے معاشی امور کے سیکرٹری اروند مایارام نے کہا ہے کہ لشکرِ طیبہ اور اس سے منسلک جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ گذشتہ سال امریکہ نے بھارتی شہہ پرکالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔ لیکن بعد میں تاویل پیش کرکے اس سے دستبرداری کا بھی اعلان کردیا تھا لیکن بھارتی تفتیش کار جماعت الدعوۃ کو سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن نریندرمودی کے گجراتی نسل کشی کے واقعے کی طرح یہاں بھی کسی کے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ امریکی دارالحکومت میں متعین بھارتی اہلکار نے پاکستان میں سرگرم ایک اور گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں بھارتی سفارتخانے اور نیٹو افواج پر حملے کے الزامات ہیں اور گذشتہ سال امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کو ایک کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔