مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
17 اکتوبر کا انتظار کس لئے؟ خطرناک وقت امریکا سے چند دن کی دوری پر ہے: صدر عالمی بینک
نیویارک ...عالمی ماہرین معیشت اس کھوج میں ہیں کہ امریکہ مالیاتی بحران کے خاتمے کیلئے واضع کوششیں کیوں نہیں کر رہا، اسے جمعرات کی ڈیڈ لائن کا انتظار کس وجہ سے ہے؟ لیکن فی الحال یہ امور سربستہ راز ہی ہیں کیونکہ ورلڈ بینک کے سربراہ جم یونگ نے بھی کہہ دیا ہے کہ خطرناک وقت امریکا سے چند دن کی دوری پر ہے اورقرض کی حد پر عدم اتفاق ناصرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو گا۔ امریکا میں جاری شٹ ڈائون تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے جس کے خلاف سینکڑوں افراد نے وائٹ ہاوس اور امریکی کانگریس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ انکا کہنا تھا ارکان اسمبلی اس معاملے کو ریپبلیکن یا ڈیمو کریٹ کے طور پر نہیں بلکہ امریکی بن کر دیکھیں اور امریکیوں کے لیے سوچیں۔ ادھر بین الاقوامی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل نہ رہا تو دنیا پھر کساد بازاری کی جانب چل پڑے گی۔ ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اگر اپنے قرضے واپس نہ دے سکا تو دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ کا قرض مقررہ حد تک پہنچ جائے گا اور اگر قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو جمعرات سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔ کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ امریکہ کو قرضے لینے کی اپنی مقررہ حد میں فوری طور پر اضافہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے یقینی اور امریکی ضمانتوں پر عدم اعتماد دنیا بھر میں معاشی بحران شروع کر سکتا ہے۔ ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بوہینر نے کہا تھا کہ صدر کا یہ موقف کہ وہ اس وقت تک رپبلکنز سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ ’ہتھیار نہیں ڈال دیتے‘، زیادہ دیر تک برقرار رہنے والا نہیں۔