مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یورپی ممالک کاشامی مہاجرین کیلئے امیگریشن کا عمل شروع، پہلی کھیپ جرمنی پہنچ گئی ..!!
لندن ...شام کے متاثرین کا پہلا پناہ گزین قافلہ بحفاظت جرمنی پہنچ گیا ہے جس میں خواتین، بچےاور بزرگ افراد شامل ہیں۔ یہ قافلہ جرمنی کی طرف سے شام کے ان چار ہزار افراد کا پہلا حصہ ہے جنہیں جرمنی نے دو سال کا ابتدائی رہائشی ویزہ دیا ہے۔ دمشق میں قائم جرمنی کے سفارت خانے نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ابتدائی طور پر چار ہزار ایسے افراد کا چنائو کیا ہے جن کی زندگیوں کو شامی خانہ جنگی سے خطرات لاحق ہیں۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق شامی پناہ گزینوں کو اپنے اپنے ممالک میں رہائشی ویزے دینے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ کشمیر لنک لندن اس سلسلے میں پہلے ہی خبر دے چکا ہے کہ شامی پناہ گزینون کی مدد کے لیے یورپی یونین کے ممالک ابندائی طور پر دو سالہ رہائشی مدت کے ایک لاکھ ویزے جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پناہ گزینوں کو اپنے ممالک میں جگہ دینے اور آسائش زندگی مہیا کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ برطانیہ نے ابھی تک اس سلسلے میں واضع پالیسی کا اعلان نہیں کیا کیونکہ یوکے بارڈر ایجنسی کے مطابق دیگر یورپی ممالک سے پہلے ہی کثیر تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن برطانیہ داخل ہو رہے ہیں جن کی روک تھام ضروری ہے۔ یورپی یونین کے ملازمتوں کے کمشنر سرزلو اینڈور نے یورپی یونین کی طرف سےجاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یورپی یونین میں شامل ممالک کے 6 لاکھ سے زائد بے روز گار افراد برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2006 سے اب تک برطانیہ میں بے روزگار تارکین وطن کی تعداد کی شرح میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے پہلے یورپی یونین کے بے روزگار تارکین وطن کی تعداد 4 لاکھ 31 ہزار 687 تھی جو بڑھ کر 6 لاکھ 11 ہزار 779 ہوگئی ہےتارکین وطن کی یہ تعداد گلاسگو شہر کی آبادی سے زیادہ ہے ۔ (کشمیرلنک لندن، خصوصی رپورٹ)