مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جموں کشمیر کا فیصلہ ریاست کے عوام کی آزادانہ رائے ہی سے ممکن ہے:ڈاکٹر مسفر حسین
برنلے :ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ریاست کے عوام کی آزادانہ رائے ہی سے ممکن ہے ۔ محمد علی جناح نے جس مقصد کیلئے مظفر آباد کی انقلابی حکومت قائم کی تھی وہ مقصد آج دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہا ، لبریشن لیگ حق خودارادیت سے ہٹ کر کوئی فیصلہ قبول نہیں کریگی ۔ آزاد کشمیر میں اقرباء پروری اور انتظامیہ کی لا محود کرپشن نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ۔ ڈاکٹر مسفر حسن صدر لبریشن لیگ برطانیہ جموں و کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ اور یورپ کے صدر ڈاکٹر مسفر حسین نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے اور جموں و کشمیر میں پائیدار قیام امن اس بات سے مشروط ہے کہ ریاست کے عوام ایک پر امن و آزادانہ ماحول میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے اصول سے ہٹ کر کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ریاست کے عوام نہ تو قبول کرینگے اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ پورے خطے کے مفاد میں ہو گا کیونکہ قیام پاکستان اور ہندوستان کی آزادی اسی مروجہ اصول کے تحت معرض وجود میں آئی تھی ۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے مظرف آباد میں 24اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ کی انقلابی باغی جانشین اور پوری ریاست کے عوام کی نمائندہ حکومت قائم کی تھی جسکی اپنی فوج اور وزیر دفاع تھا لیکن پاکستان کو انگریز سے ورثے میں ملنے والی اخلاقی طور پر دیوالیہ اور کرپٹ بیورو کریسی اور مشتاق گورمانی جیسے عیاس طبع اور نا اہل سیاست دانوں نے جناح کے تمام اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اس باغی حکومت کے اہداف پر وہ ضرب کاری لگائی جس کا خمیازہ آج 70برس گزرنے کے بعد ساری پاکستانی اور کشمیری قوم بھگت رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں قائم کی جانیوالی حکومتیں بالخصوص 1985ء کے بعد خطہ میں صرف بد عنوانی اور اقربا پروری کو پروان چڑھا سکی ہیں ۔ خطہ میں میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ۔ اکثر نوکریاں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں ۔ خطہ میں 20گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ اور پینے کے پانی ہسپتالوں اور ادویات کی عدم دستیابی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ خطہ میں قانون نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کے عوام ان حالات سے مایوس ہو کر انتہائی اقدام کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ ان حالات کو درست کرنے کیلئے اگر ٹھوس اقدامات نہ کیئے گئے تو تمام حالات کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی ۔ خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر