مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جان کیری ، حامد کرزئی معاملات فوجیوں کے استثنا کےمسئلے پر مکمل طے نہ پاسکے !!
کابل... افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے دوطرفہ معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ مذاکرات کا مقصد 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں دو طرفہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔ صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں اختلاف کی وجہ دو ہزار چودہ میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں تعینات رہنے والے امریکی فوجیوں کے لیے استثنیٰ کا معاملہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کچھ معلامات میں ابھی بھی اختلافِ رائے ہے۔ امریکہ اِس معاہدے کو جلد از جلد طے کرنا چاہتا ہے جس کے تحت، دو ہزار چودہ کے انخلاء کے بعد بھی، پانچ سے دس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں رہ کر، افغان فورسز کو تربیت دینے اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ افغانستان میں امریکی فوجوں کے مستقبل میں کردار کے حوالے سے یہ معاہدہ ایک عرصے سے التوا کا شکار چلا آ رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ اس معاہدے کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ خواہش رکھتی ہے کہ اس کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ رواں ماہ کر لیا جائے۔ دوسری جانب افغان صدر کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے کو اپریل 2014ء کے صدارتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دی جانی چاہیے۔ صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ، سلامتی کے معاہدے پر مذاکرات اس سال جون میں قطر میں طالبان کا دفتر کھولے جانے کے بعد معطل کر دیے تھے۔ اس کے علاوہ مذاکرات میں پر اثر انداز ہونے والا ایک اور واقعہ امریکی افواج کی جانب سے ایک سینیئر پاکستانی طالبان کمانڈر کی گرفتاری بھی تھا۔ امریکی نے ایک فوجی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈ لطیف محسود کو پکڑ لیا تھا جبکہ افغان صدر نے امریکی وزیر خارجہ سے لطیف محسود کو افغان سکیورٹی فورسز سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا تھا۔ امریکہ اور افغانستان حکومتوں کے درمیان اتفاقِ رائے سے تیار کیے گئے سلامتی کے دو طرفہ معاہدے پر عملدرآمد دو ہزار چودہ میں بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کیا جائے گا۔ معاہدے کی تفصیلات ابھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم اطلاعات کے مطابق اس تنازع کا حل نہیں مل سکا کہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے امریکی فوجیوں کی جانب سے ممکنہ مجرمانہ کارروائی کی صورت میں ان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔