مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
تحریک کشمیر کے اصل کرداروں کے بغیر تاریخ کشمیر کی کوئی حقیقت نہیں:راجہ طالب ایڈووکیٹ
لوٹن ...مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما راجہ طالب خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے نام پر سیاست کرنے والے لیڈران نے تحریک آزادی کو موثر بنانے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے کشمیر کی آزادی کے لےئے حقیقی کردار ادا کرنے والے لوگوں کو فراموش کر کے فرضی طور پر بننے والی کہانیاں کسی بھی صورت کشمیری تاریخ کی عکاسی نہیں کرتیں گزشتہ کچھ عرصہ سے تحریک کے لےئے جہدوجہد کرنے والوں کو پس پشت ڈال کر فرضی کرداروں کو پرمووٹ کیا جاتا رہا جو کشمیر کی تحریک آزادی سے ایک بھونڈا مذاق ہے تحریک آزادی کشمیر میں حقیقی کردار ادا کرنے والوں کے کارناموں کوا جاگر کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہماری حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہر علاقے اور قبیلے کی نامور شخصیات اور تحریک آزادی میں حقیقی کردار ادا کرنے والوں کی تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر برطانیہ کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ افتخار احمد کھیتاڑوی کی رہائشگاہ پر دئیے گئے استقبالیہ میں تبادلہ خیال کے دوران کیا اس موقع پر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے مرکزی نائب صدر راجہ محمد نواز،مرکزی رہنما ماسٹر چوہدری رفیق،صدر لوٹن برانچ راجہ زاروب ،راجہ غفور،راجہ مظہر اقبال،راجہ زبیر اور دیگر افراد موجود تھے راجہ طالب خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ جن لوگوں کی قربانیوں سے کشمیر کے ایک حصے کو آزادی ملی ان کی خدمات سے چشم پو شی ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے بیس کیمپ میں کچھ لوگوں نے آزاد کشمیر کی تاریخ صیح طور پر لوگوں تک پہنچانے کے بجائے فرضی کرداروں کو پر موٹ کیا مگر تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اس بات سے آگاہی رکھتے ہیں کہ مجاہدوں کا اصلی کردار کس نے ادا کیا ہے اگر تاریخ آزادی کشمیر پر سیاست کر کے اپنی سیاسی ہٹیاں نہ چلائی جاتیں تو آج کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے اصلی کرداروں کے حالات وواقعات آنے والے نسلوں تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔