مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر:طاقت کا وحشیانہ استعمال، نوجوان موت سے بے خوف ،شہادتوں پر جشن
سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا اور وہ موت کو گلے لگانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔5رکنی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری سمجھتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں ہے ۔سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنیوالے گروپ نے رپورٹ کے بنیادی نتائج میں کہا کہ کشمیر مسئلے کا سیاسی حل تلاش کئے جانے تک وادی میں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارت پر ان کو اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے ۔ لوگوں کو یقین ہے کہ دہلی کی موجودہ حکومت مسئلہ کے سیاسی حل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔کشمیر میں 68فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ،کشمیر کا نوجوان بے خوف اور شدید نا امیدی کا شکار ہے ۔ایک نوجوان جس کا نام رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا اس کے حوالے سے کہا گیا کہ سب سے اچھی چیز جس کے ہم شکر گزار بھی ہیں وہ ہتھیاروں کا استعمال ہے جس میں پیلٹ گنیں شامل ہیں، جس نے ہمارا ڈر اور خوف نکال دیا ہے ، ہم اب شہادتوں پر جشن مناتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا نوجوانوں میں سے کچھ توبھارت سے مذاکرات کرنے پر تیار ہی نہیں ہیں،لوگ سمجھتے ہیں کہ مظاہروں میں وقفہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے ، عمومی طور پر ایک خوف ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اپریل سے ستمبر کے درمیان کچھ بڑا ہونے والا ہے ، 2017 میں اپنی شدت اور سنگینی کے اعتبار سے کوئی بڑا واقعہ پیش آ سکتا ہے ۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے برف پر بھی آزادی کے حق میں نعرے رقم کر کے غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کیا ہے جبکہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے والد مفتی محمد سعید کی پہلی برسی کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ماحول کو ساز گار بنانے کی ضرورت ہے اوراس کیلئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے ۔ ضلع پلوامہ کے علاقے کریم آباد کے رہائشی ریاض احمد بٹ کے دو بیٹے آصف اور عادل بھارتی فورسز کی طرف سے چلائے جانے والے پیلٹ لگنے سے بصارت سے محروم ہو گئے ،دونوں بھائیوں کی آنکھوں پر گزشتہ برس 11ستمبر کو ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کے دوران پیلٹ لگے تھے ۔ضلع بانڈی پورہ کے علاقے اجر میں ہونے والی آتشزدگی میں4مکان جل کر خاکستر ہوگئے ۔