مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اٹلی کے ساحلوں پرپھر تارکین وطن کی یلغار، وسیع سمندر میں موت و حیات کا کھیل جاری
میلان ...یورپ میں پناہ گزینوں کیلئے آسان ہدف سمجھے جانے والے ملک اٹلی کے ساحلوں پر ایک بار پھر تارکین وطن نے یلغار کی ہے۔ اطالوی نیوز ایجنسی کے مطابق 800 سے زائد تارکینِ وطن اٹلی کے ساحلی علاقوں تک پہنچے ہیں۔ سمندر میں موت و حیات کی کشمکش میں پھنسےہوئے تارکین وطن کی نصف تعداد کو فوج کے دو بحری جہازوں پر سوار کرایا گیا۔ باقی ماندہ غیر ملکیوں کو ساحلی نگران پولیس اور تجارتی بحری جہازوں نے بچایا۔ پکڑے گئے افراد کا تعلق افریقہ سے ہی ہے سسلی کے ساحل پر پناہ گزینوں کے کیمپ کم پڑ چکے ہیں جبکہ واپس بجھوائے گئے آدھے افراد کو افریقہ کی بجائے نزدیکی ملک لیبیا بجھوادیا گیا ہے جن میں اکثریت اریٹیریا سے آئے مرد و خواتین کی تھی۔ دو ہفتے قبل ہی اٹلی کے نیوی حکام کے مطابق سیسلی کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی غرقاب ہو ئی جس کے نتیجے میں34 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے اس میں 200 کے قریب افراد سوار تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کشتی اٹلی کے جزیرے سیسلی اور تیونس کے درمیان کسی جگہ ڈوبی۔ اطلاعات کے مطابق مالٹا کی فضائیہ کو پہلے حادثے کا پتا چلا اور اس کے بعد اٹلی سے مدد مانگی گئی۔ ڈوبنے والی کشتی پر شامی اور فلسطینی باشندے سوار تھے۔ حکام کے خیال میں اس کشتی کی منزل یورپ تھی اور یہ اطالوی جزیرے لمپیدوزا سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبی۔ مالٹا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ افریقہ کے نزدیک بحیرۂ روم کا حصہ ایک قبرستان کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک جوڑے کے مطابق کشتی الٹنے کے بعد وہ ایک گھنٹے تک پانی میں موجود رہے اور پھر انہیں بچا لیا گیا۔ اس سے دس روز قبل ہی اطالوی ساحل کے قریب بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کے حادثے میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن شمالی افریقہ سے اس خطرناک سمندری راستے سے سیسلی اور اٹلی کے دیگر جزائر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش کے دوران حادثات عام ہیں۔