مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شامی باغیوں نے سینکڑوں افراد کو ظلم کا نشانہ بنایا، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ
نیویارک ... عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اگست میں فوجی کارروائیوں کے دوران شام کے باغیوں نے کم از کم 190 شہریوں کو قتل اور دو سو سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان کا تعلق زیادہ تر علوی مسلم فرقے سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شہری قتل عام صوبے لاذقیہ کے علوی اکثریتی آبادی والے قریب دس دیہات میں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ واضح رہے کہ شام میں دو سال سے جاری بغاوت کے دوران باغیوں اور فوجیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر جانچ کی اور 35 سے زیادہ افراد کا انٹرویو لیا۔ ان میں طرفین کے جنگجو بھی شامل تھے جو اس آپریشن میں زندہ بچ گئے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح باغیوں نے عام شہریوں کو قتل کیا اور ان پر گولیاں چلائیں۔ بعض اوقات پورے کے پورے کنبے کو مارنے کی کوشش کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں باغیوں کے تقریباً 20 گروہوں نے حصہ لیا تھا جن میں سے پانچ شہریوں پر حملہ کرنے میں شامل تھے اور یہ پانچوں گروپ آزاد شامی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ دو گروپ عراق و شام کی اسلامی مملکت اور جیش المہاجرین والانصار نے ابھی تک لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔