مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شامی باغیوں نے سینکڑوں افراد کو ظلم کا نشانہ بنایا، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ
نیویارک ... عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اگست میں فوجی کارروائیوں کے دوران شام کے باغیوں نے کم از کم 190 شہریوں کو قتل اور دو سو سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان کا تعلق زیادہ تر علوی مسلم فرقے سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ شہری قتل عام صوبے لاذقیہ کے علوی اکثریتی آبادی والے قریب دس دیہات میں کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ واضح رہے کہ شام میں دو سال سے جاری بغاوت کے دوران باغیوں اور فوجیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر جانچ کی اور 35 سے زیادہ افراد کا انٹرویو لیا۔ ان میں طرفین کے جنگجو بھی شامل تھے جو اس آپریشن میں زندہ بچ گئے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح باغیوں نے عام شہریوں کو قتل کیا اور ان پر گولیاں چلائیں۔ بعض اوقات پورے کے پورے کنبے کو مارنے کی کوشش کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں باغیوں کے تقریباً 20 گروہوں نے حصہ لیا تھا جن میں سے پانچ شہریوں پر حملہ کرنے میں شامل تھے اور یہ پانچوں گروپ آزاد شامی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ دو گروپ عراق و شام کی اسلامی مملکت اور جیش المہاجرین والانصار نے ابھی تک لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔