مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پرویز مشرف کی اعصابی جنگ جاری، غازی رشید قتل کیس میں چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ کا نیاحکم
اسلام آباد ... پاکستان کےسابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف عدالت نے غازی رشید قتل کیس میں چودہ روزہ عدالتی ریمانڈ کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے مشرف کو عدالتی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ جمعہ کے روزسنایا۔ اس سے پہلے عدالت نے پرویز مشرف کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مجسٹریٹ نے کہا تھا کہ ریمانڈ صرف ملزم کی موجودگی میں دیا جاتا ہے اور انھوں نے پولیس کو حکم جاری کیا کہ وہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کریں۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے لال مسجد کیس میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یہ درخواست لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید کے بیٹے نے دائر کی تھی جس کی سماعت جمعے کو ہوئی اور اس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ریاض احمد خان نے محفوظ کیا۔ واضح رہے کہ جمعرات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو لال مسجد کیس میں باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر جواد پال نے گرفتاری کی تصدیق کی تھی ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے میں سابق صدر سے تفتیش بھی کی ہے۔ یہ مقدمہ گذشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا اور اس میں قتلِ عمد کی دفعہ 302 کے علاوہ اعانتِ جرم کی دفعہ 109 بھی لگائی گئی ہے۔ اس مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی جس نے جمعرات کو پرویز مشرف کی رہائش گاہ پر ان سے ابتدائی تفتیش کی۔ اسلام آباد کے چک شہزاد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں قید پرویز مشرف کو جمعرات کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسی دن پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے اکبر بگٹی قتل کیس میں ضمانتی مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ پرویز مشرف کو اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ شامل ہے۔