مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کی 6سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی وفد کی آزربائیجان کےنومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد
اسلام آباد ...سینیٹ کی دفاع اور دفاعی پیداوار کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے صدارتی انتخابات کا خیر مقدم کرتے ہوئے نومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد پیش کی ہے ۔وہ پاکستان کی چھ اہم ترین سیاسی جماعتوں کے پندرہ رکنی پارلیمانی وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ مشاہد حسین سید نے آگاہ کیا کہ ان کی زیر قیادت پاکستان پارلیمانی الیکشن آبزرویشن مشن کے ممبران نے دارلحکومت باکو کے پندرہ پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیااور اس سلسلے میں مختلف سیاسی وسماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے تبادلہ خیال کیا۔ مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے انتخابی عمل کو شفاف ترین اور پر امن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے عمل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاجو قابل تحسین ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے آن لائن پولنگ سسٹم بذریعہ ویب کیمرہ کو سراہتے ہوئے اسے انتخابی عمل کے لئے بہترین لائحہ عمل قرار دیا ۔پاکستانی وفد نے آزربائیجان کے نومنتخب صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں اپنا اہم کردارا دا کریں گے ۔پاکستانی مبصر وفد نے آزربائیجان کے عوام کو ’’ناگورنو کاراباخ ‘‘تنازعہ پر بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس پر آرمینا کے غیر قانونی تسلط کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 853,822,874اور884پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔