مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کی 6سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی وفد کی آزربائیجان کےنومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد
اسلام آباد ...سینیٹ کی دفاع اور دفاعی پیداوار کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے صدارتی انتخابات کا خیر مقدم کرتے ہوئے نومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد پیش کی ہے ۔وہ پاکستان کی چھ اہم ترین سیاسی جماعتوں کے پندرہ رکنی پارلیمانی وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ مشاہد حسین سید نے آگاہ کیا کہ ان کی زیر قیادت پاکستان پارلیمانی الیکشن آبزرویشن مشن کے ممبران نے دارلحکومت باکو کے پندرہ پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیااور اس سلسلے میں مختلف سیاسی وسماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے تبادلہ خیال کیا۔ مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے انتخابی عمل کو شفاف ترین اور پر امن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے عمل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاجو قابل تحسین ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے آن لائن پولنگ سسٹم بذریعہ ویب کیمرہ کو سراہتے ہوئے اسے انتخابی عمل کے لئے بہترین لائحہ عمل قرار دیا ۔پاکستانی وفد نے آزربائیجان کے نومنتخب صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں اپنا اہم کردارا دا کریں گے ۔پاکستانی مبصر وفد نے آزربائیجان کے عوام کو ’’ناگورنو کاراباخ ‘‘تنازعہ پر بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس پر آرمینا کے غیر قانونی تسلط کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 853,822,874اور884پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔