مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کی 6سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی وفد کی آزربائیجان کےنومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد
اسلام آباد ...سینیٹ کی دفاع اور دفاعی پیداوار کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے صدارتی انتخابات کا خیر مقدم کرتے ہوئے نومنتخب صدر الحام علیوف کو مبارکباد پیش کی ہے ۔وہ پاکستان کی چھ اہم ترین سیاسی جماعتوں کے پندرہ رکنی پارلیمانی وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ مشاہد حسین سید نے آگاہ کیا کہ ان کی زیر قیادت پاکستان پارلیمانی الیکشن آبزرویشن مشن کے ممبران نے دارلحکومت باکو کے پندرہ پولنگ سٹیشنز کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیااور اس سلسلے میں مختلف سیاسی وسماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے تبادلہ خیال کیا۔ مشاہد حسین سید نے آزربائیجان کے انتخابی عمل کو شفاف ترین اور پر امن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سارے عمل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیاجو قابل تحسین ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے آن لائن پولنگ سسٹم بذریعہ ویب کیمرہ کو سراہتے ہوئے اسے انتخابی عمل کے لئے بہترین لائحہ عمل قرار دیا ۔پاکستانی وفد نے آزربائیجان کے نومنتخب صدر کو مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں اپنا اہم کردارا دا کریں گے ۔پاکستانی مبصر وفد نے آزربائیجان کے عوام کو ’’ناگورنو کاراباخ ‘‘تنازعہ پر بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس پر آرمینا کے غیر قانونی تسلط کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 853,822,874اور884پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔