مقبول خبریں
روٹری کلب کے راہنما ڈاکٹر سہیل قریشی کے اعزاز میں سماجی کمیونٹی شخصیت چوہدری محمود کا استقبالیہ
پاکستان سے آئے وکلا کے اعزاز میں ورلڈ وائیڈ سالیسٹرز کے ڈائیریکٹر محمد اشفاق کا استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کا کنزرویٹو پارٹی لیڈر شپ کیلئے وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ کی حمایت کا اعلان
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
پکچرگیلری
Advertisement
قرونِ وسطیٰ کے بعد اکیسویں صدی میں پھرطاعون کی وبا پھیلنے کا خدشہ، ریڈکراس کی وارننگ
لندن ... ریڈکراس کی عالمی کمیٹی آئی سی آر سی نے خبردار کیا ہے کہ مدگاسکر میں ہنگامی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو دنیا کو ایک بار پھر طاعون کی وبا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بین الاقوام فلاحی ادارے ریڈ کراس اور پیسٹر انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرہ قیدیوں کو ہے جو گندی اور پرہجوم جیلوں میں قید ہیں۔ آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت اینٹانانیریو کی مرکزی جیل میں تین ہزار قیدی چوہوں کی ایک بڑی آبادی کے ساتھ رہ رہے ہیں جو بیمار پسوؤں کو خوراک، بستروں اور کپڑوں کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔ آئی سی آر سی کے ایواریسٹو اولیرا نے کہا کہ اس سے نہ صرف قیدی اور جیل کا عملہ متاثر ہوتا ہے بلکہ اُن سے ملنے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مڈغاسکر میں گذشتہ سال طاعون کے 256 کیسز سامنے آئے تھے اور اس مرض سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جنیوا میں قائم آئی سی آر سی اور پیسٹر انسٹی ٹیوٹ فروری 2012 سے مدغاسکر کے مقامی صحت عامہ کے گروپوں کے ساتھ جیلوں کی صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ پیسٹر انسٹی ٹیوٹ کے کرسٹوفی روجیئر نے کہا کہ اگر طاعون جیل میں آ جائے تو پورے قصبے میں اس کا جوہری دھماکہ سا ہو جاتا ہے۔ جیل کی دیواریں طاعون کو باہر نکلنے اور قصبے میں پھیلنے سے کبھی نہیں روکتیں۔ جیل میں لوگوں اور کیڑے مکوڑوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہاں کے عملے کو خطرہ ہے جو دن کو کام کرکے رات کو اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح سے چوہے بھی جیل میں آ جا سکتے ہیں جو اس بیماری کو پھیلاتے ہیں۔جیل میں ملاقاتی بھی آتے ہیں جنھیں واپس جانا ہوتا ہے انھیں بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے۔جیل سے بیماری پھیلنے کے بہت سے ذرائع ہیں۔ یاد رہے قرونِ وسطیٰ میں کالے طاعون کی وجہ سے یورپ میں ڈھائی کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔