مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سید ابن عباس کی جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کے وفد سےخصوصی ملاقات
بریڈ فورڈ:برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر تیسری بحث جنوری کے وسط میں ہو گی جس کیلئے آل پارٹیز کشمیر گروپ کے عہدیداران اور جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے،دیگر کشمیری و پاکستانی بھی اپنے اپنے حلقوں اور ہم خیال ارکان پارلیمنٹ کو اس دن ہائوس آف کامنز میں شرکت پر آمادہ کریں اور خود بھی شریک ہو کر اپنے ممبر پارلیمنٹ کی حاضری کو یقینی بنائیں،مسئلہ کشمیر جہاں کشمیری عوام کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے وہاں پاکستان کی حکومت اور عوام کیلئے بھی سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے جس کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا،مقامی مسائل کے علاوہ برطانیہ بھر میں سفارتکار مسئلہ کشمیر پر لابی میں معاونت جاری رکھیں گے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ میں اجاگر کرنے پر کشمیر گروپ کے چیئرمین ڈیوڈ نٹال اور انکے تمام ساتھیوں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں مگر کمیونٹی کو مزید سرگرمیوں کو مربوط کر کے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے توجہ دلانے کی ضرورت ہے،ان خیالات کا اظہار برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر سید ابن عباس نے دورہ بریڈ فورڈ کے دوران جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کے وفد سے ایک خصوصی ملاقات میں کیا جس میں چیئرمین تحریک راجہ نجابت حسین ،سردار عبدالرحمان خان،ہیری بوٹا،محمد اسلم چوہدری اور راجہ اشتیاق احمد شامل تھے،اس موقع پر راجہ نجابت حسین نے ہائی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کی مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک اور ظلم و تشدد کو جہاں برٹش کشمیریوں نے ہر جگہ آواز بلند کی ہے وہاں مختلف شہروں کے کشمیری و پاکستانی کونسلروں کی کاوشوں سے کونسلوں کی سطح پر قراردادیں پاس ہوئی ہیں جبکہ برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور یورپی پارلیمنٹ میں قائم کشمیر گروپوں کے عہدیداروں اورکشمیر دوست ممبران پارلیمنٹ نے بھی بڑا موثر کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت ہائوس آف کامنز میں3گھنٹے کی مفصل بحث19جنوری2017کو مین چیمبر میں ہو گی اور کشمیر گروپ نے برطانوی وزیر اعظم کے دورہ بھارت سے قبل اسے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ٹریسامے نے مسئلہ کشمیر بھارتی وزیر اعظم سے اٹھایا اور برطانوی نائب وزیر خارجہ الوک شرما ایم پی نے کشمیر گروپ کے اجلاس میں بھی ممبران پارلیمنٹ سے خصوصی اجلاس میں ملاقات کر کے انکے خیالات سے آگاہی حاصل کی ہے،تحریک کے سر پرست سردار عبدالرحمان خان نے اپنی تنظیم کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ2016کے پورے سال میں ہماری ٹیم نے مسلسل اجلاسوں،سیمینارز اور لندن و برسلز کے علاوہ آزاد کشمیر اور پاکستان میں موثر لابی کر کے ایک بہت بڑے طبقے کو مسئلہ کشمیر پر کام کرنے کیلئے متحرک کیا ہے جس میں خصوصی طور پر ہماری تنظیم کی خواتین عہدیداروں اور دیگر خواتین گروپوں کی بھی بھرپور معاونت رہی ہے مستقبل میں بھی ہم ہر شہر میں جا کر ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی کو متحرک کریں گے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر