مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسپیکر سمیت درجن بھر سے زائد برٹش پارلیمنٹیرینز اور لارڈز کا گورنر پنجاب محمد سرور کو خراج تحسین
لندن ... برطانوی ایوان زیریں اور بالا کے درجن بھر سے زائدممبران نے اپنے پرانے ساتھی محمد سرور کو گورنر پنجاب بننے پر تاریخ ساز خراج پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان جیسی شخصیت ناصرف دونوں ممالک کو مزید قریب کرنے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ وہ اپنی فطری رحمدلی ، تجربےاور جزبہ ایثار کی بنا پر پاکستان کے لیے بہت کچھ کر سکیں گے۔ ممبران ہائوس آف لارڈز اور کامنز جن میں اسپیکر جان برکو ، آل پارٹی پارلیمانی کمیٹی آن پاکستان کے چیئرمین اینڈریو اسٹیفنسن ایم پی ، بزرگ پارلیمنٹیرین جیرالڈ کافمین ایم پی ، لیبر پارٹی کے سربراہ کے دست راست شیڈو منسٹر صادق خان ایم پی، سکاٹش لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر انس سرور ایم پی، لارڈ قربان حسین، لارڈ طارق احمد، شبانہ محمود ایم پی، رحمان چشتی ایم پی،خالد محمود ایم پی، یاسمین قریشی ایم پی اور سابق برطانوی وزیر برائے بین الاقوامی ترقی ڈگلس الیگزینڈر ایم پی سمیت دیگر پارلیمنٹیرینز کا کہنا تھا کہ محمد سرور ایک ایسا ہیرا ہے جس کی ملکیت پر باقاعدہ جنگ ہو سکتی ہے۔ وہ اگر برطانیہ چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تو یہ ہماری بدقسمتی جبکہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ان کا پاکستان جانے کا فیصلہ غیر معمولی ہے پر آسائش زندگی چھوڑ کر ایک ایسی کرسی پر بیٹھنا جہاں پہلے ایک گورنر لوگوں کی ناپسندیدہ گفتگو کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو بہت مشکل امر ہے لیکن محمد سرور کے جذبہ ایثار و خدمت کے آگے تمام اندیشے دم توڑ گئے، کیونکہ محمد سرور حقائق کی دنیا میں رہنے والا انسان ہے، خدمت انسانی کا وسیع تجربہ ان کی اضافی خوبی ہے۔ اس موقع پر ہر پالیمنٹیرین نے محمد سرور کے ساتھ گزارے اچھے وقت کو یاد کیا۔ مہمان خصوصی محمد سرور نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پرانے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برطانیہ میں ان کے پہلے مسلمان رکن پارلیمنٹ بننے کی سب سے زیادہ مخالفت معروف اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے کی۔ جب وہ ایم پی بن گئے تو بھی اس اخبار نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا تاہم آج دنیا کا یہ سب سے بڑا اخبار بند ہوچکا ہے اور ان کے خلاف مہم کی سربراہ کو بھی مقدمات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پاکستانیوں اور سکاٹش کمیونٹی نے ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ وہ اس کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے مغربی ممالک سے اس بات کی شکایت کی کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا صحیح طور پر ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کے 50ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہوئے ہیں۔ عالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کا احساس کرنا چاہیئے اور اس کی مدد کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چرچ پر حملہ پوری قوم کے لئے شرمندگی کا باعث بنا ہے۔ اس طرح کے حملے پاکستان کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ پاکستان میں زیادتیاں ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ گورنر سرور نے کہا کہ برطانیہ کی ٹوری پارٹی کی حکومت نے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی نہیں کی اس پر انہیں بہت خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی دلانے کا کیس لے کر برطانیہ آئے ہیں جہاں کی ساری پارٹیاں پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کا سٹیٹس دلانے کے حق میں ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ یہ ساری پارٹیاں یورپی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بھی پاکستان کے حق میں لابی کریں گی۔ گورنر سرور نے کہا کہ وہ اگر بزنس موجود رہتے تو زیادہ پیسہ کما سکتے تھے مگر انہوں نے پیسے کو چھوڑ کر کمیونٹی کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست میں قدم رکھنے کا ان کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ سکاٹ لینڈ اور برطانوی کمیونٹی کو بہت مس کرتے ہیں تاہم انہوں نے پاکستان کے بچوں کو تعلیم دلانے اور پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کا عزم کیا ہے اور وہ اس مشن کو مکمل کریں گے۔ تقریب کا اہتمام یاسمین قریشی ایم پی اور خالد محمود ایم پی نے کیا تھا۔ پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن، چئیرمین ورلڈ کانگریس آف اوورسیز پاکستانیز سید قمر رضا، چئیرمین تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی مشتاق لاشاری، چئیرمین پاکستان سنٹر ولزڈن گرین طارق ڈار نے اظہار خیال کیا اور محمد سرور کو خراج تحسین پیش کیا۔