مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
میاں وحیدالرحمان کی جانب سےعید میلادالنبیؐ کی تقریب،نبی پاکؐ کی سیرت پر روشنی ڈالی گئی
لندن: نبی پاکؐ کو انکی سچی تعلیمات اور مضبوط کردار کی وجہ سے غیرمسلموں نے بھی کل انسانیت کا مسیحا مانا ہے ایک ہم مسلمان بدقسمتی سے فرقہ پرستی کی راہ پر چل پڑے اور جس رسی کو مضبوطی سے تھامنا تھا اسے اپنے ہاتھوں سے ریزہ ریزہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، آج بھی رحمت عالم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو مشعل راہ بنالیا جائے تو بعید نہیں کہ امت مسلمہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن جائے۔ ان خیالات کا اظہار والتھم فاریسٹ کے علاقے چنگ فورڈ میں جشن عید میلادالنبیؐ کی تقریب میں مقررین نے کیا جن میں سابق میئر فاروق قریشی، پی ٹی آئی لندن کے صدر میاں وحید الرحمان اور نوجوان بچے شامل تھے۔ تقریب کا اہتمام میاں وحید الرحمان نے کیا تھا۔ اس موقع پر خطاب میں انکا کہنا تھا کہ رحمت عالمؐ کا ظہور اقدس اتنی عظیم نعمت ہے جسکا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت نہیں کر سکتی،12ربیع الاول محسن انسانیت حضور نبی کریمؐ قاسم نعمت الٰہی بن کر تشریف لائے،ساری عطائیں کائنات عالم میں آپؐ ہی کے صدقے بٹتی ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا جس پر بخاری شریف کی حدیث’’اللہ پاک دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں‘‘ اور قرآن کریم کی آیت کریم میں حکم ربی اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو،یہی وجہ ہے کہ ماہ ربیع الاول آتے ہی پوری دنیا کے مسلمان جوش و خروش سے آقائے دو جہاں کی ولادت با سعادت کی خوشی میں محافل میلاد و سیرت اور نعمت کے ذریعے اپنی اپنی عقیدت و محبت کا حکم ربی کی تعمیل میں اظہار کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں جو کہ نہ صرف جائز و مستحب ہے بلکہ محبت رسولؐ کی علامت ہے،اگر عالم اسلام کے مختلف مکاتب فکر مختلف عنوانات سے اپنے ہاں محافل و کانفرنسز کا انعقاد کرتے ہیں جسکا دور صحابہؓ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا تو جواباً کہا جاتا ہے کہ ان عنوانات جو کہ فی زمانہ رائج ہیں اسکا مقصد تبلیغ اور اشاعت ترویج دین ہے صرف طریقہ کار بدل گیا ہے اور طریقہ کار بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی تو اسی کلیہ کے تحت اگر جشن عید میلاد النبیؐ کے عنوان کو بھی بغیر تعصب کے مان لیا جائے تو تفرقہ بازی پر قابو پایا جا سکتا ہے چونکہ محافل میلاد کی اصل ذکر رسولؐ ہے جو قرآن و سنت آثار صحابہؓ سے لیکر آج تک اہل ایمان کے ہاں ثابت ہے۔