مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
متنازعہ مہم "وطن واپس جائو یا گرفتاری کیلئے تیار رہو" غلط بیانی کے باعث بند کردی گئی
لندن ...غیر قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم افراد کی حوصلی شکنی کیلئے شروع کی گئی تشہیری مہم کوغلط بیانی کے باعث ایڈورٹائزنگ واچ ڈاگ نے کام کرنے سے روک دیا ہے۔ واچ ڈاگ نے وزارت داخلہ کی جانب سے غیر قانونی تارکین کووطن واپس بھیجنے کیلئے چلائی گئی اشتہاری مہم کو گمراہ کن قرار تو دیا تاہم یہ نہیں کہا کہ ایسا کرنا غلط ہے۔ ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز اتھارٹی کاکہنا ہے کہ وین پر لگے پوسٹروں میں گرفتاریوں کے بارے میں غلط اعدادوشمار دئے گئے تھے، اسے مختلف لوگوں،مہم جو گروپوں، قانونی ماہرین اور لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن دارالامرا لارڈ لپسے کی طرف سے اس کے خلاف 224 شکایات موصول ہوئی تھیں ۔اس مہم کے دوران اشتہاری وینز لندن کے بارکنگ، ڈیگن ہیم ،ریڈ برج، بارنٹ،برینٹ،ایلنگ اور ہاؤن سلو میں گشت کرتی رہی تھیں۔ یہ لندن کے انتہائی متنوع علاقے اور خیال کیاجاتا ہے کہ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن مقیم اور ملازمتیں کررہے ہیں۔پوسٹر میں ایک ہتھکڑی لگے ہوئے شخص کی تصویر بھی تھی جس پر لکھا تھا کہ وطن واپس جاؤ یا گرفتاری کیلئے تیار رہو۔اے ایس اے کے سربراہ گے پارکر نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بتایا کہ یہ مہم بڑے پیمانے پربے چینی پیدا کرنے کاسبب بنی انھوں نے کہا کہ وطن واپس جاؤ یا”گو ہوم“ کی اصطلاح نسل پرستانہ نعرے سے ملتی جلتی ہے۔ اس سے یقینا بعض لوگ بے چین ہوئے میرے خیال میں اگر حکومت پوسٹر وین دوبارہ چلانا چاہتی ہے تو اسے کوئی دوسرا نعرہ سوچنا ہوگا۔ متروک کی گئی اشتہاری مہم بارے کمپنی کا دعوا تھا کہ ایک ہفتے میں سو سے زائد غیر قانونی افراد کو پکڑا جا رہا ہے جو کہ غلط بیانی تھی۔