مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر:بھارنی فوج کا گھر گھر تلاشی ڈرامہ جاری،فائرنگ سے3نوجوان شہید
سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کولگام کے قصبے حسن پورہ اور ضلع اسلام آباد (اننت ناگ )کے علاقے ارونی بجبہاڑہ میں مزید3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا جبکہ دونوں قصبوں میں غیر اعلانیہ کرفیو لگا دیا گیا اور موبائل فون سروس معطل کر دی گئی ہے ، اونتی پورہ میں سری نگر جموں ہائی وے کو بھی بھارتی فوج نے بند کر دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی بھاری نفری نے پولیس کے ساتھ مل کر ضلع کولگام کے علاقے حسن پورہ اورضلع اسلام آباد کے علاقے ارونی بجبہاڑہ کومحاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی لی ،حسن پورہ اور ارونی بجبہاڑہ ضلع کولگام اور اسلام آبادکی سرحدپر واقع جڑواں قصبے ہیں ،گھرگھر تلاشی کے عمل کے دوران بھارتی فورسز نے 3نوجوانوں کو گولی مارکرشہید کردیا جن میں ایک کی شناخت جنیداحمد سکنہ حسن پورہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ارونی بجبہاڑہ میں شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ۔بھارتی فوج کی اس کارروائی کیخلاف مساجد کے لاؤڈ سپیکروں پر اعلانات کئے گئے اورلوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے ،مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے بھارتی فورسز نے فائرنگ کی اور آنسو گیس پھینکی ،جس سے 20 افرادزخمی ہوگئے ۔بھارتی فوج کاکہناہے کہ علاقے میں کالعدم لشکر طیبہ کے آپریشنل کمانڈر ابودوجانہ کی موجودگی کی اطلاع پرآپریشن شروع کیا گیا ہے اور فائرنگ کے تبادلے میں 3افراد مارے گئے ہیں ۔حریت رہنماؤں نے نیا احتجاجی کیلنڈر جاری کردیاہے جس کے مطابق آج نماز جمعہ کے بعد آزادی کے حق میں جلسے کئے جائیں گے جبکہ کل سرینگر میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر دفتر کی طرف مارچ ہو گا اورایک یادداشت پیش کی جائے گی ،اتوار اور پیر کو ہڑتال نہیں ہوگی ، 13دسمبر کو خواتین کے مظاہرے ،14دسمبر کو شاہ آباد کی طرف مارچ اور 15دسمبرکو آزادی کنونشن ہوگا۔