مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انسانی حقوق کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہونیوالی پیلٹ گن کا بھانڈا پھوڑ دیا
واشنگٹن:امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا بھانڈا پھوڑ دیا اور بتایا ہے کہ یہ کوئی پیلٹ گن نہیں ہے بلکہ12بور شارٹ گن سے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا جس میں کارتوس ڈال کر فائرنگ کی جاتی ہے ،اس گن کے استعمال سے سینکڑوں افراد مستقل معذور،درجنوں بینائی سے محروم اور10ہزار سے زائد زخمی ہوئے ۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے امریکہ میں جاری کی گئی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ وادی میں شورش کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایمبولینس پر فائرنگ کر کے ، سڑک پر ایمرجنسی گاڑیوں کے آنے جانے اور ہسپتالوں کے اندر زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ ڈال کر زخمی مظاہرین کو طبی امداد حاصل کرنے سے روکا جو زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اگربروقت طبی امداد دی جاتی توکئی جانیں بچ سکتی تھیں۔یہ رپورٹ کشمیر میں زخمی مظاہرین، ڈاکٹروں، مقامی لوگوں سے بات چیت اور ہسپتالوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ہے ،رپورٹ کے مطابق جو کارتوس فائر کیاجاتارہااس میں 600سے زیادہ چھرے ہوتے ہیں،چھرے مخصوص نشانے پر نہیں جاتے بلکہ پھیل جاتے ہیں اورزخمی کرتے ہیں۔تنظیم کا کہناہے کہ ان کارتوسوں کا استعمال مظاہرین کے خلاف کبھی نہیں کیا جانا چاہیے ۔ تنظیم کی رپورٹ پر بھارت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کے 152ویں روز بھی مکمل ہڑتال رہی اورمعمولات زندگی متاثر ہوئے ۔شمالی کشمیر کے قصبے سوپور میں خواتین کے جلوس پر بھارتی فورسز نے لاٹھی چارج کیا جس سے 20خواتین شدید زخمی ہوگئیں جبکہ کولگام میں گھرگھرآپریشن کے دوران 10نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ضلع پلوامہ کے علاقے مورن میں مظاہرین پرطاقت کے وحشیانہ استعمال سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے ۔ لبریشن فرنٹ کے زونل نائب صدر محمد یاسین بٹ کو کئی ماہ کی قید کے بعدراجباغ تھانے سے رہا کردیا گیا۔حریت قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ محمد عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے سیاحوں اور یاتریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی خوف وخطر اور تذبذب کے بغیر جب چا ہیں کشمیر تشریف لائیں اور کشمیریوں کی روایتی مہمان نوازی کا عینی مشاہدہ کریں۔