مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انسانی حقوق کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہونیوالی پیلٹ گن کا بھانڈا پھوڑ دیا
واشنگٹن:امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا بھانڈا پھوڑ دیا اور بتایا ہے کہ یہ کوئی پیلٹ گن نہیں ہے بلکہ12بور شارٹ گن سے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا جس میں کارتوس ڈال کر فائرنگ کی جاتی ہے ،اس گن کے استعمال سے سینکڑوں افراد مستقل معذور،درجنوں بینائی سے محروم اور10ہزار سے زائد زخمی ہوئے ۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے امریکہ میں جاری کی گئی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ وادی میں شورش کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایمبولینس پر فائرنگ کر کے ، سڑک پر ایمرجنسی گاڑیوں کے آنے جانے اور ہسپتالوں کے اندر زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ ڈال کر زخمی مظاہرین کو طبی امداد حاصل کرنے سے روکا جو زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اگربروقت طبی امداد دی جاتی توکئی جانیں بچ سکتی تھیں۔یہ رپورٹ کشمیر میں زخمی مظاہرین، ڈاکٹروں، مقامی لوگوں سے بات چیت اور ہسپتالوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ہے ،رپورٹ کے مطابق جو کارتوس فائر کیاجاتارہااس میں 600سے زیادہ چھرے ہوتے ہیں،چھرے مخصوص نشانے پر نہیں جاتے بلکہ پھیل جاتے ہیں اورزخمی کرتے ہیں۔تنظیم کا کہناہے کہ ان کارتوسوں کا استعمال مظاہرین کے خلاف کبھی نہیں کیا جانا چاہیے ۔ تنظیم کی رپورٹ پر بھارت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کے 152ویں روز بھی مکمل ہڑتال رہی اورمعمولات زندگی متاثر ہوئے ۔شمالی کشمیر کے قصبے سوپور میں خواتین کے جلوس پر بھارتی فورسز نے لاٹھی چارج کیا جس سے 20خواتین شدید زخمی ہوگئیں جبکہ کولگام میں گھرگھرآپریشن کے دوران 10نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ضلع پلوامہ کے علاقے مورن میں مظاہرین پرطاقت کے وحشیانہ استعمال سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے ۔ لبریشن فرنٹ کے زونل نائب صدر محمد یاسین بٹ کو کئی ماہ کی قید کے بعدراجباغ تھانے سے رہا کردیا گیا۔حریت قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ محمد عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے سیاحوں اور یاتریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی خوف وخطر اور تذبذب کے بغیر جب چا ہیں کشمیر تشریف لائیں اور کشمیریوں کی روایتی مہمان نوازی کا عینی مشاہدہ کریں۔