مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امن کاقیام اولین ترجیح ہونی چاہئے، محبت اور دعاؤں سےہم دنیا بدل سکتے ہیں: رانا یعقوب خان
لندن ... دہشت گردی پوری بنی نوع انسانیت کیلئے ایک لعنت ہے ، اسلام نے دہشت گردی کی ہرصورت کو مسترد کیاہے، امن کاقیام اب اولین ترجیح ہونی چاہئے، جو تشدد سے ختم نہیں ہوسکتا بلکہ محبت اور دعاؤں سے ہی ہم دنیا کوتبدیل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی بین المذاہب مذاکرات کے آرک بشپ کنٹر بری کے سابق معاون ریورنڈ رانا یعقوب خان نے پشاور کے چرچ میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے مسیحیوں کےلیے منعقدہ دعائیہ تقریب میں کیا اس تقریب کا اہتمام سینٹ اینڈریوذچرچ الفورڈ میں کیا گیا جس میں سینکڑوں پاکستانی مسیحیوں کے علاوہ مسلم رہنماؤں اور علما نے بھی شرکت کی ۔سینٹ اینڈریو چرچ کو لندن میں پاکستانی مسیحیوں کی عبادت کاسب سے بڑا مرکز تصور کیاجاتا ہے۔ سوگواروں نے مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں، مرنے والوں کے واقعات سن کر آنسو بہائے لیکن مسلسل پاکستان کے تحفظ اور اتحاد کی دعائیں مانگتے رہے۔ اس موقع پردھماکے کے بعد کی صورت حال کی ویڈیو دکھائی گئی جس کے ساتھ سوگوار کردینے والی موسیقی نے ماحول کوسوگوار کردیا، تقریب کے شرکا نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیاجائے جو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گئی ہیں۔ رانا یعقوب خان نے مزید کہا کہ کوئی بھی پیدائشی دہشت گرد یاانتہا پسند نہیں ہوتا،بلکہ حالات اوراسلام کے امن ، یکجہتی ،ہم آہنگی اورتحمل کے اصولوں پر عمل نہ ہونے سے پیدا ہونے والے خلا کی وجہ سے لاغیریت پسندی لوگوں کے ذہن میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ سینٹ اینڈریوز کی وکار ریورنڈماری سیگل نے کہا کہ مسیحی چرچ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہی دوسروں کو ہلاک کرنے والوں کیلئے بھی یہ دعا کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے کہ الله ان کے دلوں کوبدل دے اور یہ دنیا زیادہ پرامن ہوجائے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں لوگ چرچ، مساجد ،مندروں اور دوسری عبادت گاہوں میں بلاخوف جاتے ہیں انھیں یہ خوف نہیں ہوتا کہ کوئی محض ان کے عقیدے کی وجہ سے ان کوہلاک کردے گا۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کی جان ومال کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ایک دوسرے کوبرداشت ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ پاکستان جیسے کثیرالثقافت اور کثیرالمذاہب ملک میں ہمہ جہتی کے اظہار کی ضرورت ہے ،پشاور کے سابق بشپ کی اہلیہ بنیتا رومل شا نے کہا کہ پاکستان میں مسیحیوں کو انتہاپسندوں کے ہاتھوں طویل عرصے سے امتیازی سلوک کاسامنا ہے لیکن عام لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی طرح زندگی گزاررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران معاشرے میں بحیثیت مجموعی انتہا پسندی میں اضافے کی وجہ سے پشاور جیسے علاقوں میں مسیحیوں کومتعدد مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیگر مقررین میں پاکستان ہائی کمیشن کے نمائندے نیاز حسین، فیاض مغل او بی ای، چرچ سیکریٹری عاشر سلیم شامل تھے۔