مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سید حسین شہیدسرورکا ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں عشائیہ ، کشمیرسمیت مختلف موضوعات پرتبادلہ خیال
لوٹن:ممتازسیاسی وسماجی شخصیت سید حسین شہیدسرور ایڈوکیٹ نے گذشتہ روزسعودی عرب میں مقیم آزادکشمیر کوٹلی کے ماہرسرجن ڈاکٹرحبیب بٹ کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ پر عشائیہ دیا۔اس موقع پر راجہ مشتاق خان ایڈوکیٹ، چوہدری فاروق اعظم ایڈوکیٹ، سابق میئرکونسلر ریاض بٹ، سابق میئرراجہ وحیداکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، چوہدری محمد شریف، ڈاکٹرگل زمان بٹ، عبدالقدیربھٹی، مرزاعرفان جلال، پیرسیدمحمود محی الدین ، پیرمحمود شاہ، صابرملک، امیرقیصر دائود ایڈوکیٹ، صادق راجہ، تیمورلون، ڈاکٹراقبال حسین چوہدری ، ملک مسعود راناایڈوکیٹ اور شاہدحسین سید موجودتھے۔اس دوران پاکستان اور آزادکشمیرمیں صحت عامہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ سید حسین شہید سرورنے بتایاکہ پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی نگفتہ بہ ہے ۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اورہسپتالوں کے عملے کے طرف سے ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اس کے علاوہ نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کامعاوضہ عام آدمی کی پہنچ سے دورہے۔ سرجن ڈاکٹر حبیب بٹ نے کہاکہ پاکستان میں دیگرشعبوں کی طرح صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صحت لوگوں کی بنیادی ضرورت ہے لیکن پاکستان اور آزادکشمیرمیں زیادہ تر لوگ ان سہولیات سے محروم ہیں۔تقریب کے دوران مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بھی تبادلہ کیاگیا اور بھارتی مظالم کا شکارمظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیاگیا۔سیدحسین شہید سرورنے کہاکہ بھارت نے گذشتہ سات عشروں سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اوروہ خاص طورپرکشمیریوں کا حق خودارایت دینے سے انکاری ہے۔ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں۔ عورتیں اور بچے بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پرمظالم بند کروائے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن اور دیرپاحل کے لئے کردار اداکرے۔