مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پرویز مشرف نواب اکبر بگٹی کیس میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ..!!
اسلام آباد سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کو اکبر بگٹی کیس میں عدالت عظٰمی سے ضمانت حاصل ہو گئی ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکلا نے اس مقدمے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ کورٹ نے پرویز مشرف کو دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی درخواست منظور کی۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے پاس کوئی ایسے شواہد ہیں کہ ملزم پرویز مشرف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے اُن کے موکل کی ضمانت کی درخواست میرٹ پر مسترد نہیں کی تھی بلکہ اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیا گیا تھا۔ نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں سابق گورنر اویس غنی کے علاوہ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو، اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پرویز مشرف کے خلاف 2007 میں لال مسجد آپریشن کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے ابھی تک اپنا کام شروع نہیں کیا۔ (رپورٹ: اکرم عابد)