مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
یورپی وزرائے خارجہ کےاجلاس میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے مسئلے پرغور
لکسمبرگ ... ترقی پزیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک کی طرف بہتر مستقبل کیلئے ہجرت نئی بات نہیں، یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے اور اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک پوری دنیا میں دولت اور خوشحالی یکساں تقسیم نہیں ہو جاتی۔ ہجرت کے اس سلسلے کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن منظم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال پر غور کیلئے یورپی وزرائے خارجہ کا اجلاس لکسمبرگ میں ہوا جس کا مقصد سیاسی پناہ کی غرض سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے مسئلے پر غور کرنا تھا۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر یورپی پارلیمان نے سرحدی نگرانی کے اس مواصلاتی نیٹ ورک کو عملی طور پر بروئے کار لانے سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی۔ اسطرح یورپی یونین کے نئے بارڈر سرویلنس نیٹ ورک EUROSUR کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے۔ یورپی یونین کے نئے بارڈر سرویلنس نیٹ ورک سسٹم کی یورپی پارلیمان کی طرف سے منظوری ایک ایسے وقت پر دی گئی ہے جب یورپی ممالک کے متعلقہ وزراء اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کے قریب پناہ گزینوں کی ایک بڑی کشتی غرق ہو جانے کے المناک حادثے کے مضمرات پر غور کر رہے تھے۔ یورپی یونین کی داخلہ امور کی کمشنر سیسیلیا مالمشٹروم نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ بر وقت کیا گیا ہے۔ یہ نیا سرحدی حفاظتی نظام لاتعداد انسانی جانوں کی حفاظت کرے گا۔ یورپی یونین کے نئے سرحدی حفاظتی نظام EUROSUR کی مدد سے لامپے ڈوسا کے ساحل کے قریب تین اکتوبر کو پیش آنے والے سانحے جیسے المناک حادثات سے بچا جا سکے گا لامپے ڈوسا جزیرے کے قریب افریقی مہاجرین سے بھری ایک کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد یورپی ممالک سے معاونت کی درخواست کے بعد ہوا ۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی سو کے قریب تھی۔ واضح رہے کہ اریٹریا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے 500 افراد اس کشتی پر سوار تھے، جو اٹلی کے قریب الٹ گئی۔ اس حادثے کے بعد دیڑھ سو افراد کو زندہ بچایا گیا تھا۔