مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یورپی وزرائے خارجہ کےاجلاس میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے مسئلے پرغور
لکسمبرگ ... ترقی پزیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک کی طرف بہتر مستقبل کیلئے ہجرت نئی بات نہیں، یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے اور اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک پوری دنیا میں دولت اور خوشحالی یکساں تقسیم نہیں ہو جاتی۔ ہجرت کے اس سلسلے کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن منظم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال پر غور کیلئے یورپی وزرائے خارجہ کا اجلاس لکسمبرگ میں ہوا جس کا مقصد سیاسی پناہ کی غرض سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کے مسئلے پر غور کرنا تھا۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر یورپی پارلیمان نے سرحدی نگرانی کے اس مواصلاتی نیٹ ورک کو عملی طور پر بروئے کار لانے سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی۔ اسطرح یورپی یونین کے نئے بارڈر سرویلنس نیٹ ورک EUROSUR کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے۔ یورپی یونین کے نئے بارڈر سرویلنس نیٹ ورک سسٹم کی یورپی پارلیمان کی طرف سے منظوری ایک ایسے وقت پر دی گئی ہے جب یورپی ممالک کے متعلقہ وزراء اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کے قریب پناہ گزینوں کی ایک بڑی کشتی غرق ہو جانے کے المناک حادثے کے مضمرات پر غور کر رہے تھے۔ یورپی یونین کی داخلہ امور کی کمشنر سیسیلیا مالمشٹروم نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ بر وقت کیا گیا ہے۔ یہ نیا سرحدی حفاظتی نظام لاتعداد انسانی جانوں کی حفاظت کرے گا۔ یورپی یونین کے نئے سرحدی حفاظتی نظام EUROSUR کی مدد سے لامپے ڈوسا کے ساحل کے قریب تین اکتوبر کو پیش آنے والے سانحے جیسے المناک حادثات سے بچا جا سکے گا لامپے ڈوسا جزیرے کے قریب افریقی مہاجرین سے بھری ایک کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد یورپی ممالک سے معاونت کی درخواست کے بعد ہوا ۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی سو کے قریب تھی۔ واضح رہے کہ اریٹریا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے 500 افراد اس کشتی پر سوار تھے، جو اٹلی کے قریب الٹ گئی۔ اس حادثے کے بعد دیڑھ سو افراد کو زندہ بچایا گیا تھا۔